صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 486 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 486

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۶ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور يَقُوْلُ فِي حَدِيثِهِ وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ حضرت کعب کو لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے خُلَّفُوا ( التوبة : ١١٨) فَقَالَ فِي آخِرِ کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک سے اُن کے حَدِيثِهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعُ مِنْ واقعہ کے متعلق سنا جس کے متعلق یہ آیت نازل مَّالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ ہوئی تھی: وَعَلَى الثَّلَثَةِ الَّذِينَ خُلِفُوا ، تو انہوں النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْسِكْ نے اپنے واقعہ کو بتاتے ہوئے آخر میں کہا کہ میری عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكَ توبہ قبول ہونے کی وجہ وجہ سے میں اپنے مال سے دست بردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کے لئے صدقہ ہو گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے مال میں سے کچھ اپنے لئے بھی رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ أطرافه: ٢٧٥٧ ، ٢٩٤٧ ، ۲۹٤٨ ، ۲۹۴۹ ، ۲۹۵۰، ۳۰۸۸ ، ۳٥٥٦ ، 38۸۹، 3951، 4418، -٤٦٧٣ ، ٤٦٧٦ ، ٤٦٧٧ ، ٤٦٧٨، ٦٢٥٥، ٧٢٢٥ تشريح : إِذَا أَهْدَى مَا لَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ: اگر کوئی نذری توبہ کے طورپر اپنا مال تحفة پیش کرے۔ علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ امام بخاری نے قسموں کے ا موں کے ابواب سے فراغت کے بعد نذروں کے متعلق ابواب شروع کیے ہیں اور ان میں سے یہ پہلا باب ہے اور نذر یہ ہے کہ ثواب کی خاطر عبادت یا صدقہ وغیرہ میں سے کسی چیز کو اپنے نفس پر خود ہی لازم ٹھہرالیا جائے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۲۰۴،۲۰۳) علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ نذر کے لغوی معنی کسی اچھے یا برے کام کو اپنے اوپر لازم قرار دینے کے ہیں اور شرعی اصطلاح میں مکلف کا کسی ایسے کام کو واجب ٹھہر الینا ہے جو اس پر لازم نہ ہو، یہ جلد پورا کر لینے کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کام کے ساتھ معلق بھی ہو سکتی ہے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۶۹۷) أَمْسِكَ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ : سارے مال کو صدقہ کرنے کی نذر ماننے والے معاملہ کے متعلق فقہاء میں اختلاف ہے۔ امام مالک کہتے ہیں کہ اس پر ایک تہائی صدقہ کرنا لازم ہے۔ لیث اور ابن وہب کے نزدیک اگر نذر ماننے والا شخص مالدار ہے تو اُسے آ ما مالدار ہے تو اُسے ایک تہائی مال صدقہ میں دینا ہو گا ینا ہو گا لیکن اگر وہ فقیر ہے تو قسم کا کفارہ ادا کرے گا۔ امام ابو حنیفہ کہتے ہیں کہ اگر تو اس نے نذر کو کسی بات سے مشروط کیا ہو جیسے کہ اگر میرے مریض کو شفاء ہو جائے یا یہ کہ اگر میں اس گھر میں داخل ہوا تو ( اپنا سارا مال صدقہ میں دے دوں گا۔ ایسی صورت میں اُس پر سارا مال (صدقہ ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا) جو پیچھے چھوڑ دیئے گئے تھے۔“