صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 485
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور يَتَزَوَّجُهَا فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ چاہتا ہے یا کسی عورت کے لئے کہ وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اس کی ہجرت اُس کے لئے ہے جس کی خاطر اس نے ہجرت کی۔أطرافه ۱ ، ۵۴، ۲۵۲۹، ۳۸۹۸، ۵۰۷۰، ٦٩٥٣- تشریح : البنية في الأيمان: قسموں میں نیت کرنا۔معنونہ روایت "إِلَها الأَعْمَالُ بِالنية والمالامية مانوی جوامع الکلم میں سے ہے اور انسانی اعمال کا نیک یا بد ہونا اسی اصل پر قائم ہے۔قسم کے معاملہ میں بھی یہی اصل الاصول کار فرما ہے۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ زیر باب حدیث کی عنوان باب سے یہ مناسبت ہے کہ قسم بھی اعمال میں سے ہی ہے اور اس سے یہ بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کہ قسم میں زبانی یا مکانی تخصیص خواہ لفظا موجود نہ بھی ہو (صرف نیتا ہی ہوں) تو جائز ہے، جیسا کہ کوئی یہ قسم کھائے کہ وہ زید کے گھر میں داخل نہیں ہو گا اور قسم کھاتے وقت ) ارادہ یہ کرے کہ ایک ماہ یا ایک سال تک نہیں جائے گا۔پھر جب وہ ایک ماہ یا ایک سال کے بعد داخل ہو تو قسم توڑنے کا گناہ نہیں کرے گا۔یا اگر قسم کھائے کہ زید سے بات نہیں کرے گا اور ارادہ یہ کرے کہ اپنے گھر میں بات نہیں کرے گا۔پھر کسی دوسرے گھر میں بات کرلے تو اُس نے قسم نہیں توڑی۔اور یہ بھی استدلال کیا گیا ہے کہ قسم کا تعلق اگر لوگوں کے حقوق سے نہ ہو تو وہ قسم کھانے والے کی نیت پر منحصر ہے لیکن اگر اس سے کسی دوسرے کی حق تلفی ہو رہی ہو تو اس کا مدار قسم طلب کرنے والے کی نیت پر ہو گا اور اس میں توریہ (یعنی کسی بات کو مخفی رکھنا ) فائدہ نہیں دے گا۔علامہ نووی کہتے ہیں کہ جس نے کسی شخص پر حق کا دعویٰ کیا ہو اور حاکم اُس سے قسم لے تو اس کی قسم حاکم کے ارادے کے مطابق منعقد ہو گی اور توریہ اُسے فائدہ نہیں دے گا۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحہ ۶۹۷) بَاب ٢٤ : إِذَا أَهْدَى مَالَهُ عَلَى وَجْهِ النَّذْرِ وَالتَّوْبَةِ اگر کوئی نذر یا تو بہ کے طور پر اپنا مال تحفہ یہ پیش کرے ٦٦٩٠: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ٢٢٩٠: احمد بن صالح نے ہم سے بیان کیا۔(عبد اللہ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنِ ابن وہب نے ہمیں بتایا کہ یونس نے مجھے خبر دی۔ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عبد الرحمن عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ بن عبد اللہ نے مجھے بتایا۔عبد الرحمن نے عبد اللہ بن مَالِكِ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ كعب بن مالک سے روایت کی۔اور جب حضرت عَمِيَ قَالَ سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكِ كعب نابینا ہو گئے تھے تو ان کے بیٹوں میں سے یہ