صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 484 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 484

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۴ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔ اسے زیر باب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ نے آپ کی زندگی میں کبھی تین دن مسلسل روٹی سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی۔ (روایت نمبر ۶۶۸۷) علامہ کرمانی بیان کرتے ہیں کہ کھجور تو اُن کے پاس موجود ہی ہوتی تھی اور اُن کی اکثر غذا بھی یہی تھی اور وہ اسی سے پیٹ بھرا کرتے تھے۔ لہذا اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں کھجور کے ساتھ روٹی کھانا سالن کے ساتھ روٹی کھانا تصور نہیں کیا گیا۔ ( فتح الباری جزء ا ا صفحہ ۶۹۶) علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ روٹی کے علاوہ گھر میں موجود کھانے کی ہر چیز سالن ہو سکتی ہے خواہ وہ تر ہو یا خشک۔ لہذا جس نے سالن نہ کھانے کی قسم کھائی، پھر اس نے کھجور کے ساتھ روٹی کھالی تو وہ قسم توڑنے کا گناہ کرتا ہے۔ اس بارے میں مالکی موقف زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہر قوم کی عادت ( الگ الگ) ہوتی ہے اس لیے قسم کھانے والے کے نزدیک جو چیز بھی سالن ہے اُسے کھانا قسم توڑنا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۲۰۲) بَاب ۲۳ : النِّيَّةُ فِي الْأَيْمَانِ قسموں میں نیت کرنا ٦٦٨٩ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ۶۶۸۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ عبد الوہاب (ثقفی) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يحي بن سعید سے سنا۔ وہ کہتے تھے: محمد بن ابراہیم إِبْرَاهِيمَ أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَاصِ نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے علقمہ بن وقاص اللَّيْنِي يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ لبیٹی کو کہتے سنا کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ حضرت عمرؓ نے کہا: میں نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپؐ فرماتے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا تھے: عمل نیتوں کے ساتھ ہی ہوتے ہیں اور آدمی الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّةِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَّا نَوَى كو وہی ملتا ہے جو اس نے نیت کی۔ جس کی ہجرت فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ الله اور اس کے رسول کے لئے ہوگی اُس کی ہجرت فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ وَمَنْ كَانَتْ اللہ اور اس کے رسول کے لئے ہے اور جس کی هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةِ ہجرت دنیا کے لئے ہو گی کہ اسے وہ حاصل کرنا ا (سنن ابی داود، کتاب الأطعمة، باب في التمر )