صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 483 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 483

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۳ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور لَقِيَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو طلحہ آئے اور دونوں فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ گھر کے اندر آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وَأَبُو طَلْحَةَ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَا فَقَالَ نے فرمایا: ام سلیم !جو تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ۔رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وہ وہی روٹیاں لے آئیں۔حضرت انس بن مالک هَلُتِي يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا عِنْدَكِ فَأَتَتْ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی الی یکم نے ان روٹیوں کے بِذَلِكَ الْخُبْزِ قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ متعلق حکم دیا اور وہ توڑی گئیں اور حضرت اُم سلیم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الْخَبْزَ نے اپنی ایک کچی کو نچوڑ دیا اور روٹیوں کے ساتھ فَفُتْ وَعَصَرَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ عُكَةً لَهَا یہی سالن دیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ نے چاہا کہ آپ اس کھانے پر دعا کریں، آپ فَأَدَمَتْهُ ثُمَّ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى نے اس کھانے پر دعا کی۔پھر رسول اللہ صلی ال نیلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَقُولَ حضرت ابو طلحہ سے فرمایا: دس آدمیوں کو (اندر ثُمَّ قَالَ انْدَنْ لِعَشَرَةٍ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلُوا آنے کی اجازت دو۔انہوں نے ان کو اجازت دی۔انہوں نے اتنا کھایا کہ وہ سیر ہو گئے اور حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ خَرَجُوا ثُمَّ قَالَ الْذَنْ لِعَشَرَةِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَكَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ باہر چلے گئے۔پھر آپ نے فرمایا: دس آدمیوں کو وَشَبِعُوا وَالْقَوْمُ سَبْعُونَ أَوْ ثَمَانُونَ اجازت دو اور انہوں نے ان کو اجازت دی۔غرض سب کے سب لوگوں نے کھایا اور سیر ہو کر کھایا اور رَجُلًا۔وہ لوگ ستر یا اسی آدمی تھے۔أطرافه: ٤٢٢ ۳٥٧٨، ٥۳۸۱ ٥٤٥٠۔تشریح: : إِذَا حَلَفَ أَن لَّا يَأْتَدِمَ فَأَكَل تمرا بخنين: اگر کوئی قسم کھائے کہ سالن نہیں کھائے گا، پھر اس نے کھجور کو روٹی کے ساتھ کھا لیا۔لفظ آدم کے معنی ہیں جمع کرنا۔أَدَمَ الْخُبْزَ - خَلَطَهُ بالا دام یعنی اُس نے روٹی کو سالن کے ساتھ ملایا۔(اقرب الموارد، آدم ) فقہاء نے اس بارہ میں اختلاف کیا ہے کہ کونسی چیز سالن ہے اور کونسی نہیں۔ایک قول یہ ہے کہ ادامہ دو چیزوں کو جمع کرنا ہے لہذا سالن وہ ہے کہ اُس چیز کے اجزاء روٹی کے اجزاء میں داخل ہو جائیں اور روٹی پر اس چیز کا رنگ آجائے۔ان معانی کو مد نظر رکھ کر بعض علماء کھجور وغیرہ چیزوں کو سالن شمار نہیں کرتے۔صحابی رسول حضرت یوسف بن عبد اللہ بن سلام کی ایک روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جو کی روٹی کا ایک ٹکٹر الیا پھر آپ نے اس پر ایک کھجور رکھی اور