صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 24
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۴ ۸۰ - كتاب الدعوات نظر اور پھونک وغیرہ خیالات کے باہر نکلنے کے راستہ ہیں۔اسی وجہ سے دم کرنا بھی صلحاء سے ثابت ہے بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی مروی ہے۔پس چونکہ اعصاب کے ذریعہ خیالات نکلتے اور پراگندہ ہو جاتے ہیں۔ان کو قابو میں رکھنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا حکم دیا ہے اور چونکہ ان کے نکلنے کے بڑے بڑے مرکز ہاتھ پاؤں اور منہ ہیں اور تجربہ کیا گیا ہے کہ جب ان پر پانی ڈالا جائے تو خیالات کی روجو اُن سے نکل رہی ہوتی ہے وہ بند ہو جاتی ہے اور خیالات نکلنے رُک جاتے ہیں۔یہ ایک ثابت شدہ مسئلہ ہے اور وضو کی اغراض میں ایک یہ غرض بھی ہے۔وضو میں اور بھی کئی ایک حکمتیں ہیں لیکن ایک یہ بھی ہے کہ اس طرح خیالات کی روڑک جاتی ہے اور جب روڑک جاتی ہے تو سکون حاصل ہو جاتا ہے اور سکون حاصل ہو جاتا ہے تو توجہ قائم رہ سکتی ہے۔پس وضو توجہ کے قائم رکھنے کے لئے ایک اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے لیکن جب وضو کرنے بیٹھو تو ساتھ ہی یہ بھی خیال رکھو کہ ہم ایسا پراگندہ خیالات کے روکنے کے لئے کر رہے ہیں۔“ (ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۸) بَابِ : مَا يَقُولُ إِذَا نَامَ کیا کہے جب سوئے ٦٣١٢ : حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ۶۳۱۲: قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ رِبْعِيَ بْنِ حِرَاشِ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عبد الملک عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ ( بن عمیر) سے، عبد الملک نے ربعی بن حراش سے، عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ ربعی نے حضرت حذیفہ بن یمان) سے روایت بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا وَإِذَا قَامَ قَالَ کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا بستر پر آرام فرماتے تو دعا کرتے : تیرے نام سے وَإِلَيْهِ النُّشُورُ نُنْشِرُهَا نُخْرِجُهَا۔میں مرتا ہوں اور جیتا ہوں اور جب آپ اُٹھتے تو دعا کرتے : سب حمد اس اللہ ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں زندہ کیا بعد اس کے کہ اُس نے ہمیں مارا اور اسی کی طرف اُٹھ کر جاتا ہے۔نُنشِرُهَا کے معنی ہیں ہم اُس کو باہر نکالتے ہیں۔أطرافه: ٦٣١٤، ٦٣٢٤، ٧٣٩٤-