صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 482
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۸۲ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور ٦٦٨٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنْ ۲۶۸۸ : قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا۔ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ انہوں نے مالک سے ، مالک نے اسحاق بن عبد اللہ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ بن ابی طلحہ سے روایت کی۔ انہوں نے حضرت أَبُو طَلْحَةَ لِأُمِّ سُلَيْمٍ لَقَدْ سَمِعْتُ انس بن مالک سے سنا۔ وہ کہتے تھے: حضرت ابو طلحہ صَوْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت ام سلیم سے کہا: میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کمزور سنی ہے۔ میں سمجھتا وَسَلَّمَ ضَعِيفًا أَعْرِفُ فِيهِ الْجُوعَ فَهَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخْرَجَتْ ہوں کہ آپ کو بھوک ہے۔ کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ حضرت اُم سلیم نے کہا: ہاں۔ اور یہ کہہ کر أَقْرَارًا مِّنْ شَعِيرٍ ثُمَّ أَخَذَتْ خِمَارًا انہوں نے جو کی چند روٹیاں نکالیں۔ پھر انہوں نے لَهَا فَلَفَّتِ الْخُبْزَ بِبَعْضِهِ ثُمَّ أَرْسَلَتْنِي اپنی اوڑھنی لی اور اس کے ایک طرف اُن روٹیوں إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کو لپیٹا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فَذَهَبْتُ فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله بھیجا۔ میں گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَمَعَهُ النَّاسُ میں پایا اور آپ کے ساتھ لوگ تھے۔ میں آپ فَقُمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی کے پاس کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَرْسَلَكَ أَبُو طَلْحَةَ فرمایا: کیا تمہیں ابو طلحہ نے بھیجا ہے ؟ میں نے کہا: فَقُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ مَّعَهُ قُومُوا فَانْطَلَقُوا آپ کے ساتھ تھے فرمایا: اُٹھو، اور وہ چل پڑے میں بھی ان کے آگے آگے چلا اور حضرت ابو طلحہ رے اور وَانْطَلَقْتُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حَتَّى جِئْتُ أَبَا طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ کے پاس آیا اور ان کو خبر دی۔ حضرت ابو طلحہ نے کہا : ام سلیم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ بھی يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى آگئے ہیں اور ہمارے پاس اتنا کھانا نہیں جو ہم ان اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ وَلَيْسَ عِنْدَنَا کو کھلائیں۔ حضرت ام سلیم نے کہا: اللہ اور اس کا مِنَ الطَّعَامِ مَا نُطْعِمُهُمْ فَقَالَتْ الله رسول بہتر جانتے ہیں۔ حضرت ابو طلحہ چلے گئے اور وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَانْطَلَقَ أَبُو طَلْحَةَ حَتَّى جاکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے۔ رسول اللہ