صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 479
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۹ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور پر تھے۔حضرت عمرؓ کو کسی نے جواب نہ دیا پھر انہوں نے سلام کیا پھر جواب نہ دیا پھر تیسری دفعہ سلام کیا تو اجازت ملی۔حضرت عمر اندر چلے گئے اور پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں بلکہ میں نے ایلاء کیا ہے۔اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد میں ایک ماہ تک اپنی بیویوں سے علیحدہ رہوں گا اور ان کو یہ موقع دوں گا کہ وہ خوب غور کر لیں کہ ان دونوں چیزوں میں سے انہیں کیا اختیار کرنی ہے۔شدید محبت اور شفقت کے باوجو د اصول کے معاملوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غیر متزلزل تھے۔جذبات نے کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل پہ حکومت نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کردار پر حکومت نہیں کی بلکہ ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کر دار جذبات کے حاکم رہے۔چنانچہ جب یہ اختیار دیا گیا تو سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیکھو تم اپنے ماں باپ سے پوچھ لو اور مشورہ کر لو اور پھر مجھے بتاؤ کہ کیا فیصلہ ہے ؟ حضرت عائشہ جواب میں کہتی ہیں کہ مجھے ماں باپ سے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ میرے دل کا فیصلہ تو ہو چکا ہے۔وہی فیصلہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کروں گی۔چنانچہ اس کے بعد جتنی ازواج مطہرات تھیں سب نے یہی جواب دیا اور ایک مہینے کے بعد ایک نئی شان کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر بسنے لگے۔“ (خطاب لجنہ اماء الله فرموده ۲۷ دسمبر ۱۹۸۳، بر موقع جلسہ سالانہ ربوہ، الازهار لذوات الحمار جلد ۲ صفحه ۲۳ تا ۲۵) بَاب ۲۱ إِذَا حَلَفَ أَنْ لَّا يَشْرَبَ نَبِيذًا فَشَرِبَ طِلاءً أَوْ سَكَرًا أَوْ عَصِيرًا لَمْ يَحْنَتْ فِي قَوْلِ بَعْضِ النَّاسِ وَلَيْسَتْ هَذِهِ بِأَنْبِدَةٍ عِنْدَهُ اگر کوئی قسم کھائے کہ وہ نبیذ نہیں پئے گا اور اس نے شیرہ یانشہ آور چیز یا انگور کا رس پی لیا تو وہ بعض لوگوں کے قول کے مطابق قسم توڑنے والا نہیں ہو گا اور یہ ان کے نزدیک نبیذ نہیں ٦٦٨٥: حَدَّثَنِي عَلِيٌّ سَمِعَ عَبْدَ الْعَزِيزِ ۶۶۸۵: علی ( بن عبد اللہ ) نے مجھ سے بیان کیا۔