صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 478 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 478

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۸ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور يح۔مَنْ حَلَفَ أَن لَّا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِه شَهْرًا: جس نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ نہیں جائے گا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: دو نحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مختلف ادوار آئے۔ایسے وقت بھی تھے کہ مہینہ گھر میں چوہے میں آگ نہیں جلتی تھی۔جو صحابہ پر گزرتی تھی وہی آپ کے گھر پر بھی گزرتی تھی۔اگر باہر فاقے پڑرہے ہوتے تھے تو آپ کے گھر میں بھی فاقے پڑ رہے ہوتے تھے۔جب باہر سہولت ہو جاتی تھی تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسی نسبت سے گھر میں بھی سہولت دے دیا کرتے تھے اور ایک روایت کے مطابق جب خد اتعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو آپ کا یہ دستور تھا کہ سالانہ وظیفہ اپنے ہر گھر میں دیا کرتے تھے۔لیکن اس شفقت اور اس گزارے کے باوجود ایک وقت ایسا آیا کہ بعض خواتین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبے شروع کئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہمیں کچھ زیادہ دیجئے۔اس موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو جو صدمہ پہنچا اس پر نظر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَايُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ انْ كنتُنَ تُرِدنَ الْحَيوةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أمَتَعَكُنَ وَ أَسَرْحَكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِن كُنتُنَ تُرِدْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ لَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنْكُنَ أَجْرًا عَظِيمًا (الاحزاب: ۳۰،۲۹) اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں کچھ دنیاوی سامان دے کر رخصت کرتا ہوں اور احسن اور نیک طریق سے تمہیں رخصت کروں گا اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اخروی زندگی کے گھر کو چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے پوری طرح اسلام پر قائم رہنے والیوں کے لئے بہت بڑا اجر تجویز فرمایا ہے۔ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ ایک دن صبح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات رور ہی تھیں اور ہر بیوی کے پاس اس کے گھر والے اکٹھے ہو رہے تھے۔عجیب درد ناک منظر تھا۔میں مسجد گیا تو وہ لوگوں سے بھری ہوئی تھی۔حضرت عمر آئے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم چوبارے