صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 477
صحیح البخاری جلد ۱۵ 22 ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور إِذَا قَالَ وَاللهِ لَا أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ : اگر کوئی کہے اللہ کی قسم آج میں بات نہیں کروں گا۔فقہاء کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ آیا ایسی قسم کھانے کے بعد نماز پڑھنے ، تلاوت کرنے یا ذکر الہی کرنے سے قسم ٹوٹ جائے گی یا نہیں۔احناف کہتے ہیں کہ اگر نماز میں قرآن پڑھے یا ذکر الہی کرے تو سزاوار نہیں ہے لیکن اگر نماز کے علاوہ قرآن پڑھے تو ( قسم توڑنے کا گناہ ہے۔بعض شوافع کا یہ کہنا ہے کہ قرآن پڑھنے سے تو ( قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہوتا لیکن ذکر الہی کرنے سے ہو جاتا ہے جبکہ جمہور کا موقف یہ ہے کہ ان امور سے (شم توڑنے کا گناہ نہیں ہے، کیونکہ کلام کرنے سے مراد عرف عام میں آدمیوں کا بات چیت کرنا ہوتا ہے لہذا قراءت یا ذکر الہی خواہ نماز میں ہو یا نماز کے علاوہ ہو ، اس سے ( قسم توڑنے کا گناہ نہیں ہو گا۔امام بخاری نے زیر باب آیات و احادیث پیش کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ نماز پڑھنا، تلاوت کرنا اور ذکر الہی میں مشغول ہو نا بلاشبہ کلام کرنا ہی ہے اور قسم کے ٹوٹنے یا نہ ٹوٹنے کا تعلق قسم کھانے والے کی نیت پر ہی موقوف ہے۔یعنی اگر تو قسم کھانے میں اس نے قراءت اور ذکر الہی کو شامل رکھا تب تو وہ قراءت کرنے اور ذکر الہی کرنے سے (قسم توڑنے کا ) سزاوار ہو گا لیکن اگر اُس کا ارادہ انہیں اپنی قسم میں داخل کرنے کا نہ ہو تو وہ ان کو کرنے سے گناہ گار نہیں ٹھہرے گا۔(فتح الباری جزء اصفحہ ۲۹۱) (عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحه ۱۹۸) بَاب ۲۰: مَنْ حَلَفَ أَنْ لَّا يَدْخُلَ عَلَى أَهْلِهِ شَهْرًا وَكَانَ الشَّهْرُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ جس نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بیوی کے پاس ایک مہینہ نہیں جائے گا اور مہینہ انیس دن کا ہو ٦٦٨٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۶۶۸۴: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللهِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ که سلیمان بن بلال نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ آلَى رَسُولُ اللهِ سے حمید نے حضرت انس سے روایت کی۔انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ وَ نے کہا: رسول اللہ کی ایم نے قسم کھائی کہ اپنی ازواج كَانَتِ انْفَكَّتْ رِجْلُهُ فَأَقَامَ فِي مَشْرُبَةٍ کے پاس نہیں جائیں گے اور آپ کے پاؤں میں مورچ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً ثُمَّ نَزَلَ فَقَالُوا آگئی تھی تو آپ نے ایک بالا خانہ میں انیس رات يَا رَسُولَ اللَّهِ آلَيْتَ شَهْرًا فَقَالَ إِنَّ قیام فرمایا پھر نیچے آئے۔لوگوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے تو ایک مہینے کی قسم کھائی تھی۔آپ نے الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ۔فرمایا: مہینہ انیس دن کا بھی ہوتا ہے۔أطرافه ۳۷۸، ۶۸۹، ۷۳۲، ۷۳۳ ، ۸۰۵، ۱۱۱٤، ۱۹۱۱، ٢٤٦۹، ٢٠١، ٥٢٨٩-