صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 475
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور لئے آپ نے اُن کی تسلی کے لئے اور پیچھا چھڑانے کے لئے قسم کھائی۔وہ چلے گئے تو سواری بھی آگئی اور آپ نے دوبارہ ان کو بلا کر سواری دے دی۔پس وہ قسم اس لئے تھی کہ میر اوقت ضائع نہ کرو اور اصرار نہ کرو اور سواری آپ نے اس لئے دی کہ یہ نیکی کا موقع تھا اور آپ اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے۔“ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۵۷۰ تا ۵۷۲) بَاب ١٩: إِذَا قَالَ وَاللَّهِ لَا أَتَكَلَّمُ الْيَوْمَ فَصَلَّى أَوْ قَرَأَ أَوْ سَبَّحَ أَوْ كَبَّرَ أَوْ حَمِدَ أَوْ هَلَّلَ فَهُوَ عَلَى نِيَّتِهِ اگر کوئی کہے اللہ کی قسم آج میں بات نہیں کروں گا پھر وہ نماز پڑھے یا قرآن پڑھے یا تسبیح کرے یا الله أكبر کہے یا الحمد لله کہے یا لا إِلَهَ إِلَّا الله کہے تو یہ اس کی نیت پر ہی ہو گا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب باتوں سے أَفْضَلُ الْكَلَامِ أَرْبَعٌ سُبْحَانَ اللهِ افضل چار باتیں ہیں۔سُبحان اللہ اور الحمد للہ اور وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور اللهُ أَكْبَرُ قَالَ أَبُو سُفْيَانَ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابوسفیان نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قل کو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ تَعَالُوا إلى كَلِمَةٍ لکھا: ایک ایسی بات کی طرف تو آجاؤ جو ہمارے ہے۔سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ (آل عمران: ٦٥) درمیان اور تمہارے درمیان برابر ہے۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ كَلِمَةُ التَّقْوَى لَا إِلَهَ اور مجاہد نے کہا: تقویٰ کی بات لَا إِلَهَ إِلَّا الله ہی إِلَّا الله۔٦٦٨١: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا :۶۶۸۱: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے روایت کی، بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ :کہا: سعيد بن مسیب نے مجھے خبر دی۔سعید نے أَبَا طَالِبِ الْوَفَاةُ جَاءَهُ رَسُولُ اللَّهِ اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: جب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُلْ لَا إِلَهَ ابو طالب فوت ہونے لگے تو ان کے پاس رسول اللہ