صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 474
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور تو یاد ہے مگر بات یہ ہے کہ میں قسم کھاؤں یا قسم کے بغیر کوئی ارادہ کروں، جب زیادہ ثواب کا موقع آجائے تو میں اپنے ارادہ میں تبدیلی کر لیتا ہوں۔میں اپنی قسم کی وجہ سے کسی کو ثواب سے محروم نہیں کرنا چاہتا۔میں جب کوئی ارادہ کرتا ہوں تو جب اس سے زیادہ بہتر ارادہ میرے دل میں آجائے تو اسی پر عمل کرتا ہوں کیونکہ اصل غرض تو نیکی ہے۔جب زائد نیکی کا موقع مل جائے تو اس کو ضائع نہیں کرنا چاہیئے۔اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس سواری تھی ہی نہیں تو آپ نے یہ قسم کیوں کھائی کہ خدا کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔قرآن کریم، احادیث اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت آپ کے پاس سواری تھی ہی نہیں اور قسم کے معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز موجود ہو اور دینے سے انکار کر دیا جائے۔اب کیا کوئی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ میں چاند کے پاس نہیں جاؤں گا یا میں سورج کے پاس نہیں جاؤں گا یا کوئی یہ قسم کھاتا ہے کہ میں ایک ہی دفعہ ہاتھی نہیں نگلوں گا۔اسی طرح سوال یہ ہے کہ جب آپ کے پاس سواری ہی نہ تھی تو آپ نے قسم کیوں کھائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر متمدن اور غیر مہذب لوگ دوسرے کی بات کا اعتبار نہیں کرتے جب تک قسم نہ کھائی جائے۔ہمارے پاس بعض اوقات ایسے لوگ آتے رہتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا فلاں کام کرا دیں۔ہم کہتے ہیں: یہ کام ہم نہیں کر سکتے۔وہ کہتے ہیں: آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔گویا ہم کام تو کر سکتے ہیں مگر جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم نہیں کر سکتے۔اسی طرح وہ لوگ بھی غیر متمدن اور غیر مہذب تھے ، وہ نئے نئے آئے تھے اور اُن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت، وقار ، عظمت اور اعلیٰ اخلاق کا پتہ نہ تھا۔جب آپ نے اُن سے فرمایا کہ میرے پاس سواری نہیں ہے تو انہوں نے سمجھا کہ سواری تو ہے مگر آپ انکار کر رہے ہیں اس لئے اصرار کیا کہ آپ تو بادشاہ ہیں، آپ کے پاس سواریاں کیوں نہ ہوں گی۔مزید یہ کہ عرب لوگوں کی عادت ہے کہ ان کی کسی بات پر تسلی نہیں ہو سکتی جب تک قسم نہ کھائی جائے۔معمولی معمولی باتوں پر وہ واللہ ، بالله تم تاللہ کہتے رہتے ہیں اس لئے ان کے سواری مانگنے کے اصرار کا ایک ہی جواب تھا کہ آپ قسم کھاتے۔چونکہ ان لوگوں نے آپ کے جواب کو غذر اور بہانہ سمجھا تھا اس