صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 473
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۳ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور جب کسی شخص نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سواری نہیں بلکہ چپلیاں مانگی تھیں تا کہ ہم سنگلاخ راستوں پر سفر کر سکیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے مانگی تو چپلیاں ہوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہو کہ یہ سواری مانگ رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے انہوں نے سواری ہی مانگی ہو مگر اُن کے ذہن میں جو اقل ترین مطالبہ ہو وہ چپلوں ہی کا ہو۔غرض اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں سفر کی سہولت کے لئے کوئی چیز دی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی سواری نہ تھی۔آپ نے فرمایا: میرے پاس سواری کا کوئی انتظام نہیں۔انہوں نے پھر اصرار کیا مگر آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں۔اُنہوں نے پھر عرض کیا: یار سول اللہ ! ہمیں کیوں ثواب سے محروم کرتے ہیں۔آپؐ نے فرمایا: میرے پاس سواری ہے ہی نہیں تو دوں کہاں سے، مگر انہوں نے پھر بھی اصرار کیا اور کہا: یار سُول اللہ ! آپ تو بادشاہ ہیں۔بھلا آپ کے پاس سواری کیوں نہ ہو گی۔آپ نے جب دیکھا کہ یہ ملنے والے نہیں ہیں تو فرمایا: خدا کی قسم ! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔اس پر ابو موسیٰ اشعری "ایوس ہو کر واپس آگئے مگر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کسی مخلص نے لڑائی کے لئے دو اونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور عرض کیا کہ کئی ایسے مسلمان ہیں جن کے پاس سواریاں نہیں ہیں۔ایسے آدمیوں کو یہ اونٹ دے دیں۔آپ نے پھر ابو موسیٰ اشعری اور ان کے ساتھیوں کو بلایا اور وہ دونوں اونٹ انہیں دے کر فرمایا: باری باری سے ان پر سوار ہوتے جانا۔وہ اونٹ لے کر چلے گئے مگر تھوڑی دیر کے بعد انہیں خیال آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور اب دے دی ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھول گئے ہیں اور آپ کی قسم ٹوٹ گئی ہے اور اگر آپ کی بھول سے ہم نے فائدہ اُٹھایا تو ہمارا انجام خراب ہو گا اس لئے ہمیں سواریاں واپس کرنی چاہئیں۔چنانچہ وہ واپس آپ کے پاس آئے اور عرض کیا: یار سول اللہ ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا مگر اب آپ نے دے دی ہے اِس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھول گئے ہیں۔آپ نے فرمایا: مجھے قسم