صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 23 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 23

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۳ ۸۰ - كتاب الدعوات روایت بالمعنی کو پسند نہیں فرمایا بلکہ الفاظ کو من و عن بیان کرنا ہی محفوظ طریق ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جب کوئی عشاء کی نماز پڑھ کر آئے اور سونے لگے تو خواہ اس کا وضو ہی ہے تو بھی تازہ وضو کر کے چار پائی پر لیٹے۔اس کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور اس سے خاص قسم کی نشاط پید اہوتی ہے اور جب کوئی تازہ وضو کی وجہ سے نشاط کی حالت میں سوئے گا تو وہ آنکھ کھلتے وقت بھی نشاط میں ہی ہو گا۔عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی روتا سوئے تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھتا ہے اور اگر ہنستا سوئے تو اُٹھتے وقت بھی اس کا چہرہ بشاش ہی ہوتا ہے اسی طرح جو وضو کر کے نشاط سے سوتا ہے ، وہ اُٹھتا بھی نشاط سے ہی ہے اور اس طرح اس کو اٹھنے میں مدد ملتی ہے۔“ (ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۳،۵۱۲) نیز فرمایا: ” جب انسان رات کو سوئے تو ایسی حالت میں نہ ہو کہ جنبی ہو یا اسے کوئی غلاظت لگی ہو۔بات یہ ہے کہ طہارت سے ملائکہ کا بہت بڑا تعلق ہوتا ہے اور وہ گندے انسان کے پاس نہیں آتے بلکہ دور ہٹ جاتے ہیں۔بدن کے صاف ہونے کا قلب پر بہت اثر پڑتا ہے۔صفائی کی حالت میں سونے والے کو ملائکہ آکر جگا دیتے ہیں لیکن اگر صفائی میں فرق ہو تو پاس نہیں آتے۔“ (ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۵) نیز فرمایا: سونے سے پہلے دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے دل میں کسی کے متعلق کینہ یا بغض تو نہیں ہے۔اگر ہو تو اُس کو دل سے نکال دینا چاہیئے۔اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ روح کے پاک ہونے کی وجہ سے تہجد کے لیے اٹھنے کی توفیق مل جائے گی۔خواہ اس قسم کے خیالات ان پر پھر قابو پاہی لیں۔لیکن رات کو سونے سے پہلے ضرور نکال دینے چاہئیں اور دل کو بالکل خالی کر لینا چاہیئے۔“ ذکر الہی، انوار العلوم جلد ۳ صفحه ۵۱۶) نیز فرمایا: خیالات کا اثر اعصاب کے ذریعہ ، آواز کے ذریعہ ، پھونک کے ذریعہ، خیالات سے منتقل ہوتا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تینوں طریق کو جمع کر لیتے۔آیتہ الکرسی منہ سے پڑھتے پھر ہاتھوں پر پھونکتے پھر ہاتھ سارے جسم پر پھیر لیتے۔غرض آواز ، اعصاب، ل التوضيح لشرح الجامع الصحيح، کتاب الدعوات، باب إذا بات ظاهِرًا، جزء ۲۹ صفحه ۲۰۸،۲۰۷)