صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 472
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور (۶۶۷۸) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس چیز کے لئے آپ کی قسم کا ذکر ہے جس کے آپ مالک نہ تھے۔روایت دوم (۶۶۷۹) میں حضرت ابو بکٹر کا ایک نیکی سے ہاتھ کھینچ لینے کے متعلق قسم کا ذکر ہے اور تیسری روایت (۶۶۸۰) میں حضرت ابو موسیٰ کہتے ہیں: فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ ناراض تھے۔امام بخاری زیر باب روایات سے اس امر کو نمایاں کرنا چاہتے ہیں کہ بعض مجبوریوں کی صورت میں کھائی گئی قسم حالات کی تبدیلی سے ختم ہو سکتی ہے اور کفارہ ادا کر کے اس قسم کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔ترتیب ابواب میں امام بخاری نے ماقبل باب میں مذکورہ آیت وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرضَةٌ لِايْمَانِکھ کا ایک نیا رخ دکھایا ہے کہ بعض قسمیں جو کسی نیکی سے روکنے کا باعث بن رہی ہوں ایسی قسمیں ختم کر کے ان کا کفارہ دے دینا اور نیک کام کر لینا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر کے عملی نمونہ سے اس کا نہ صرف جواز ثابت کیا ہے بلکہ اس پاک طریق سے نفس انسانی کے اس بہانے کو توڑا گیا ہے کہ میں اب وہ نیک کام کیسے کروں جس کے متعلق میں قسم کھا چکا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”جو قسمیں تم نے ضد پر کھائی ہیں وہ نا جائز ہیں۔ناجائز قسم پر قائم رہنا گناہ ہے۔خدا تعالیٰ نے اسلامی شریعت میں یہی حکم دیا ہے کہ ناجائز قسموں اور ناجائز اقراروں کو توڑ دیا جاوے۔“ (ملفوظات جلد ۵ صفحہ ۲۲) وَالله لَا أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ غَضْبَانُ : حضرت ابو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی پر سوار نہیں کروں گا اور اتفاق سے میں آپ کو ایسے وقت میں ملا کہ آپ ناراض تھے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیصر کے مدینہ پر حملہ کی خبر سن کر کمزور مسلمان تو ڈر رہے تھے لیکن مؤمن اپنے دلوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس خطرے کے وقت جو قربانیاں کرنے کا مزہ آئے گا وہ اور کہاں آسکتا ہے۔اسی موقع پر حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی ہجرت کر کے پا پیادہ جوش ایمان کی وجہ سے آگئے تھے۔ان کے پاس نہ سواری تھی اور نہ دولت۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یارسول اللہ ! ہمیں بھی ثواب کا موقع مل جائے، ہم بھی جنگ میں شامل ہو نا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس تو سواریاں نہیں۔اس لئے ہمیں کوئی چیز دی جائے جس کے ذریعہ آسانی کے ساتھ ہم سفر کر سکیں۔ان کے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سواری ہی مانگی تھی لیکن بعد میں