صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 469 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 469

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۶۹ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور وَتَتَّقُوا یعنی ایسی قسمیں مت کھاؤ جو نیک کاموں سے باز رکھیں تفسیر مفتی ابو مسعود مفتی روم میں زیر آیت وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرْضَةٌ لِايْمَانِكُمْ لکھا ہے کہ عُرضَہ اس کو کہتے ہیں کہ جو چیز ایک بات کے کرنے سے عاجز اور مانع ہو جائے اور لکھا ہے کہ یہ آیت ابو بکر صدیق کے حق میں ہے جبکہ انہوں نے قسم کھائی تھی کہ مسطح کو جو صحابی ہے باعث شراکت اس کی حدیث افک میں کچھ خیرات نہیں دوں گا۔پس خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ ایسی قسمیں مت کھاؤ جو تمہیں نیک کاموں اور اعمال صالحہ سے روک دیں ، نہ یہ کہ معاملہ متنازعہ جس سے طے ہو۔“ (الحکم، جلد ۸، نمبر ۲۲، بتاریخ ۱۰ر جولائی ۱۹۰۴، صفحہ ۷) باب ۱۸ : الْيَمِينُ فِيمَا لَا يَمْلِكُ اس چیز کے متعلق قسم کھانا جس کا وہ مالک نہیں ہے وَفِي الْمَعْصِيَةِ وَفِي الْغَضَبِ۔اور گناہ کے لئے اور غضب کی حالت میں قسم کھانا۔٦٦٧٨: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۲۶۷۸ محمد بن علاء نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو اسامہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ عَنْ أَبِي نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بُریدہ سے ، برید نے ابو بردہ بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَرْسَلَنِي سے ابوبردہ نے حضرت ابو موسیٰ سے روایت کی۔أَصْحَابِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: میرے ساتھیوں نے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ سے سواریاں مانگوں۔وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ الْحُمْلَانَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی پر سوار أَحْمِلُكُمْ عَلَى شَيْءٍ وَوَافَقْتُهُ وَهُوَ نہیں کروں گا اور اتفاق سے میں آپ کو ایسے وقت غَضْبَانُ فَلَمَّا أَتَيْتُهُ قَالَ انْطَلِقَ إِلَي میں ملا کہ آپ ناراض تھے۔پھر جب میں آپ کے أَصْحَابِكَ فَقُلْ إِنَّ اللهَ - أَوْ إِنَّ پاس آیا آپ نے فرمایا: اپنے ساتھیوں کے پاس جاؤ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اُنہیں کہو کہ اللہ یا( فرمایا کہ) اللہ کا رسول صلی اللہ يَحْمِلُكُمْ۔علیہ وسلم تمہیں سواریاں دیتا ہے۔أطرافه ۳۱۳۳، ۱۳۸۰، ۱۰، ۰۰۱۷، ۰۱۸، ۶۶۲۳، ٦٦٤۹ ، ٦٦٨٠، ٦٧١، -٦، ٦٧٢١، ٧٥٥٥۷۱۹ ٦٦٧٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ حَدَّثَنَا ٢٦٧٩: عبد العزیز نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم