صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 470 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 470

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۷۰ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور الترسية وقاص اور عبید اللہ بن عبد اللہ بن عقبہ سے نبی صلی اللی سیم إِبْرَاهِيمُ عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ (بن سعد) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے صالح سے، ح۔ وحَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ صالح نے ابن شہاب سے روایت کی۔ نیز حجاج (بن بْنُ عُمَرَ النَّمَيْرِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ منہال) نے ہم سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر نمیری يَزِيدَ الْأَيْلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِي نے ہمیں بتایا۔ یونس بن یزید ایا بتایا۔ یونس بن یزید ایلی نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے زہری سے سنا۔ زہری نے کہا: میں قَالَ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ وَسَعِيدَ نے عروہ بن زبیر اور سعید بن مسیب اور علقمہ بن بْنَ الْمُسَيَّبِ وَعَلْقَمَةَ بْنَ وَقَاصِ وَ علوم عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ کی زوجہ حضرت عائشہ کا وہ واقعہ سنا جبکہ ان کے حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ متعلق بہتان باندھنے والوں نے وہ باتیں کیں جو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ انہوں نے کیں اور جو انہوں نے کہا، اللہ نے ان مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللَّهُ مِمَّا قَالُوا كُلِّ کو اس افتراسے بری قرار دیا۔ ان میں سے ہر ایک حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِّنَ الْحَدِيثِ فَأَنْزَلَ الله نے اس حدیث کا ایک ایک ٹکڑا مجھ سے بیان إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو بِالْإِفْكِ ( النور : ۱۲ - (۲۱) کیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل کی: إِنَّ الَّذِينَ جَاءُو الْعَشْرَ الْآيَاتِ كُلَّهَا فِي بَرَاءَتِي فَقَالَ بِالْافت سے دس آیات تک، یہ ساری آیتیں میری أَبُو بَكْرِ الصِّدِّيقُ وَكَانَ يُنْفِقُ عَلَی بریت کے متعلق تھیں۔ تو حضرت ابو ابو بکر صدیق مِسْطَحٍ لِقَرَابَتِهِ مِنْهُ وَاللَّهِ لَا أُنْفِقُ علی نے کہا اوروہ اس کو بوجہ اپنے قریبی رشتہ دار ہونے کے خرچ دیا کرتے تھے کہ اللہ کی قسم میں مسطح کو مِسْطَحٍ شَيْئًا أَبَدًا بَعْدَ الَّذِي قَالَ اب اس کے بعد کہ اس نے عائشہ کے متعلق افترا لِعَائِشَةَ فَأَنْزَلَ اللهُ: وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا کیا ہے کبھی بھی کچھ خرچ نہیں دوں گا۔ تو اللہ نے یہ الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبى حکم نازل کیا: تم میں سے جو اہل فضیلت اور کشائش (النور: ٢٣) الْآيَةَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بَلَى والے ہیں وہ قریبیوں کے ساتھ سلوک کرنے میں وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لِي کمی نہ کریں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: کیوں نہیں اللہ کی فَرَجَعَ إِلَى مِسْطَحِ النَّفَقَةَ الَّتِي كَانَ قسم میں ضرور پسند کرتا ہوں کہ اللہ میری پردہ پوشی ا ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع : ” یقینا وہ لوگ جو جھوٹ گھڑ لائے۔“ "