صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 468 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 468

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۶۸ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور تیسرے معنے یہ ہیں کہ اس ڈر سے کہ تمہیں نیکی کرنی پڑے گی خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بناؤ۔مراد یہ ہے کہ اگر اچھی باتیں نہ کرنے کی قسمیں کھاؤ گے تو ان خوبیوں سے محروم ہو جاؤ گے ، اس لئے نیکی تقویٰ اور اصلاح بین الناس کی خاطر اس لغو طریق سے بچتے رہو۔در حقیقت یہ سب معنے آپس میں ملتے جلتے ہیں۔صرف عربی عبارت کی شکل کو مختلف طریق سے حل کیا گیا ہے۔جس بات پر سب مفسرین متفق ہیں، وہ یہ ہے کہ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ نہ کرو کہ خدا تعالیٰ کو اپنی قسموں کا نشانہ بنالو، یعنی اُٹھے اور قسم کھالی یہ ادب کے خلاف ہے اور جو شخص اس عادت میں مبتلا ہو جاتا ہے وہ بسا اوقات نیک کاموں کے بارہ میں بھی قسمیں کھا لیتا ہے کہ میں ایسا نہیں کروں گا اور اس طرح یا تو بے ادبی کا اور یا نیکی سے محرومی کا شکار ہو جاتا ہے یا یہ کہ بعض اچھے کاموں کے متعلق قسمیں کھا کر خدا تعالیٰ کو ان کے لئے روک نہ بنالو۔ان معنوں کی صورت میں داؤ پیچ والے معنے خوب چسپاں ہوتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بعض لوگ صدقہ و خیرات سے بچنے کے لئے چالیں چلتے ہیں اور داؤ کھیلتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کی قسم کو جان بچانے کا ذریعہ بتاتے ہیں۔گویا دوسرے سے بچنے اور اُسے پچھاڑنے میں جو داؤ استعمال کئے جاتے ہیں اُن میں سے ایک خدا تعالیٰ کی قسم بھی ہوتی ہے۔پس فرماتا ہے: اللہ تعالیٰ کے نام کو ایسے ذلیل حیلوں کے طور پر استعمال نہ کیا کرو۔میرے نزدیک سب سے اچھی تشریح علامہ ابو حیان کی ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنے احسان اور نیکی وغیرہ کے آگے روک بنا کر کھڑا نہ کر دیا کرو۔“ ( تفسیر کبیر ، تفسير سورة البقرة آيت وَلَا تَجْعَلُوا اللهَ عُرضَةً لِإِيمَانِكُم ، جلد ۲ صفحه ۵۰۷،۵۰۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: قرآن شریف میں یہ آیت ہے: وَاحْفَظُوا أَيْمَائِكُمْ (المائدة: ٩٠) یعنی جب تم کھاؤ تو جھوٹ اور بد عہدی اور بدنیتی سے اپنی قسم کو بچاؤ۔۔۔ہاں قرآن شریف کی رُو سے لغو یا جھوٹی قسمیں کھانا منع ہے کیونکہ وہ خدا سے ٹھٹھا ہے اور گستاخی ہے اور ایسی قسمیں کھانا بھی منع ہے جو نیک کاموں سے محروم کرتی ہوں جیسا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی تھی کہ میں آئندہ مسطح صحابی کو صدقہ خیرات نہیں دوں گا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی وَلَا تَجْعَلُوا اللَّهَ عُرْضَةً لِإِيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا