صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 467 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 467

صحیح البخاری جلد ۱۵ ریح: ۴۶۷ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور إِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الأخرة : جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ سے تھوڑا سا مول لیتے ہیں آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔اس آیت کے شان نزول کے متعلق بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ حضرت اشعث بن قیس کے متعلق نازل ہوئی جن کا بعض یہودیوں سے زمین کا جھگڑا تھا۔زیر باب حدیث میں حضرت اشعث کہتے ہیں: میرا ایک کنواں میرے چچازاد کی زمین میں تھا جس میں ہمارا جھگڑا ہوا، اور معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔معروف مفسر علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں: یہ تمام مسلمانوں کے لئے ہے کہ وہ جھوٹی قسم کھا کر کسی کے مال پر ناجائز قبضہ نہ کریں۔(عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۱۹۴) ابن کثیر کی یہ تاویل زیادہ قرین قیاس ہے کیونکہ نزول کے متعلق یہ بات متحقق ہے کہ نزول کا لفظ کسی واقعہ پر کسی آیت کے اطلاق کرنے کے لئے بھی مستعمل ہے۔اس لئے کسی واقعہ پر کوئی آیت نازل ہوئی بھی ہو تو یہ موقعہ نزول ہو سکتا ہے۔قرآن کریم کے شان نزول کا دائرہ تو بہت وسیع اور جامع ہے۔لاریب آیت اِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللهِ وَ ايْمَانِهم کا اطلاق قیامت تک ان تمام افراد پر ہو گا جو اس جرم کے مرتکب ہوں گے۔ان کا یہ جرم صرف دوسرے کا حق مارنے تک نہیں ہے بلکہ اس ظلم میں وہ قسم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کو ضامن بناتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں سے لا تعلقی اور ایسی نفرت کا اظہار ہے جسے عذاب الیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔زیر باب آیات سے اس مضمون کے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ان میں سے ایک آیت وَلَا تَجْعَلُوا الله عُرْضَةً لِإِيْمَانِكُمْ أَنْ تَبَرُّوا وَ تَتَّقُوا وَتُصْلِحُوا بَيْنَ النَّاسِ ہے۔اس آیت کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس کے معنے یہ ہیں کہ تمہارا نیکی اور تقویٰ اختیار کرنا اور اصلاح بین الناس کر نازیادہ اچھا ہے۔صرف قسمیں کھاتے رہنا کہ ہم ایسا کر دیں گے کوئی درست طریق نہیں۔تمہیں چاہیے کہ قسمیں کھانے کی بجائے کام کر کے دکھاؤ۔۔۔۔دوسرے معنے اس کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو روک نہ بناؤ اُن چیزوں کے لئے جن پر تم قسم کھاتے ہو۔یعنی پر کرنا، تقویٰ کرنا اور اصلاح بین الناس کرنا۔مطلب یہ کہ اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے نیک کام کی قسم نہ کھا لیا کرو تا کہ یہ کہہ سکو کہ کیا کروں چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لئے نہیں کر سکتا۔مثلاً کسی ضرورت مند نے روپیہ مانگا تو کہہ دیا کہ میں نے تو قسم کھائی ہے کہ آئندہ میں کسی کو قرض نہیں دوں گا۔معنے یہ ہیں کہ اگر کوئی نیکی اور تقویٰ اور اصلاح بین الناس کے کام کے لئے تمہیں کہے تو تم یہ نہ کہو کہ میں نے تو قسم کھائی ہوئی ہے، میں یہ کام نہیں کر سکتا۔