صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 22 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 22

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۲ ٨٠ - كتاب الدعوات فَاجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَقُولُ فَقُلْتُ ہی حضور میں ایمان لایا تیری اُس کتاب پر جو تو أَسْتَذْكِرُهُنَّ وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ نے اُتاری اور تیرے اُس نبی پر جو تو نے بھیجا۔ قَالَ لَا وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔ اگر تم ( اس دعا کے بعد ) مر جاؤ گے تو فطرت پر مرو گے۔ اس لئے سب سے آخر جو تم رکھو تو انہی کلمات کو کہو۔ میں نے کہا: میں ان کو (یوں) یاد کر لوں: وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ آپؐ نے فرمایا: نہیں، (بلکہ یہ کہو) وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ۔ أطرافه: ٢٤٧، 6٣١٣، 6315، 7488۔ تشریح : إِذَا بَات ظَاهِرًا: جب را ظاهرا : جب رات بھر باوضور ہے۔ اصحاب سنن نے باوضو سونے کی فضیلت کے بیان میں متعدد احادیث بیان کی ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی مسلمان بھی ذکر الہی کرتے ہوئے باوضو سوئے پھر وہ رات کو بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی خیر کی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرماتا ہے۔کے حضرت ابو امامہ باہلی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ، حضرت عبد اللہ بن عباس سے بھی اسی مضمون کی روایات ملتی ہیں۔ کے حدیث زیر باب کے متعلق امام نووی کہتے ہیں کہ اس میں تین سفن کا ذکر ہے۔ (۱) جب سوئے تو باوضو سوئے۔ (۲) دائیں کروٹ سوئے۔ (۳) سونے سے پہلے ذکر الہی کرتے ہوئے اس پر اختتام کرے۔ ( فتح الباری جزءا اصفحہ ۱۳۶) وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ قَالَ لَا وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت برا کو دعا سکھاتے وقت جن الفاظ کا انتخاب فرمایا، حضرت بر ا نے جب ان الفاظ کو دہرایا تو وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کی بجائے وَبِرَسُولِكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ کہا، اس پر آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ (وہی الفاظ دہراؤ) وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ علماء نے اس کی مختلف توجیہات کی ہیں۔ (۱) لفظ رسول میں ملائکہ بھی شامل ہیں جبکہ آپ کی منشاء اپنی نبوت ورسالت کے اقرار کی تھی۔ (۲) دعا جن الفاظ میں سکھائی جائے انہی الفاظ پر جزم کرنا چاہیے۔ سکھانے والا اس کی حکمت کو جانتا ہے اس لئے از خود الفاظ میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ (۳) آپ کو وہ الفاظ بذریعہ وحی بتائے گئے ان میں تبدیلی کا کوئی مجاز نہیں۔ (۴) وَبِنَبِيَّكَ الَّذِي أَرْسَلْت میں نبوت اور رسالت دونوں کو جمع کیا گیا ہے جبکہ وَرَسُولِک میں صرف رسالت کا اقرار بلکہ تکرار ہے اور تکرار بلاغت میں پسندیدہ نہیں۔ (۵) اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ آپؐ نے ا (سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب في النوم على الطهارة) (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب ۹۲، روایت نمبر ۳۵۲۶) (صحیح لابن حبان، كتاب الطهارة، ذكر استغفار الملك للبانت متطهر ا عند استيقاظه) (المعجم الأوسط للطبراني، باب الميم ، من اسمه محمد بن العباس، جزء ۵ صفحه ۲۰۴، روایت نمبر ۵۰۸۷)