صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 463 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 463

صحیح البخاری جلد ۱۵ الله ۸۳- كتاب الأيمان والنذور بَاب ١٦ : الْيَمِينُ الْغَمُوسِ عمد اجھوٹی قسم کھانا وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلَا بَيْنَكُمْ فَتَزِل (اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا:) تم اپنی قسموں کو آپس قَدَما بَعْدَ ثُبُوتِهَا وَتَذُوقُوا السُّوءَ بِمَا میں دھوکے اور خیانت کا موجب نہ بناؤ ورنہ قدم صَدَدْتُمْ عَنْ سَبِيلِ اللهِ وَلَكُمْ عَذَابٌ مضبوط ہونے کے بعد اُکھڑ جائے گا اور تم بُرائی کا عَظِيمٌ (النحل: ٩٥) د۔ دَخَلًا مَكْرًا مزہ چکھو گے، اس لئے کہ تم نے اللہ کی راہ سے روکا اور تمہیں بہت ہی بڑا عذاب ہوگا۔ دَخلا کے وَخِيَانَةً۔ معنی فریب اور خیانت۔ ٦٦٧٥: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ۶۲۷۵ : محمد بن مقاتل نے ہم سے بیان کیا کہ نفر أَخْبَرَنَا النَّضْرُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ( بن شمیل) نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہمیں خبر دی فِرَاسٌ قَالَ سَمِعْتُ الشَّعْبِيُّ عَنْ که فراس ( بن یحی) نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے شعی سے سنا۔ شعبی نے حضرت عبد اللہ بن عمرو (بن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَبَائِرُ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ عاص) سے، حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: بڑے گناہ یہ وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ ہیں : اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرتا وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ۔ أطرافه: ٦٨٧٠ ، ٦٩٢٠ - اور جان کو مار ڈالنا اور عمد اجھوٹی قسم کھانا۔ اللہ علیہ تشریح : الْيَمِينُ الْغَمُوس : عمد ا جھوٹی قسم کھانا۔ امام بخاری نے اس تعلق میں سورۃ ا اس النحل آیت ۹۵ کا ذکر کیا ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس آیت میں لا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ کے الفاظ کو دُہرایا ہے۔ اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ گو معاہدات کی بنیاد بدنیتی پر رکھنا اور معاہدہ توڑنے کی نیت سے کرنا اصولاً بھی بُرا ہے لیکن مسلمانوں کے لئے خصوصاً برا ہے کیونکہ مسلمان دین حق کے حامل ہیں۔ ان کے خراب رویہ کو دیکھ کر خواہ وہ سیاسی معاملات میں ہی کیوں نہ ہو ، لوگ دین سے بھی