صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 464
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۶۴ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور متنفر ہو جائیں گے اور خود مسلمانوں کے حق میں کے حق میں بھی یہ اچھا نہ ہو گا کیونکہ اس قسم کی باتوں سے وہ کمزور ہو جائیں گے اور ان میں اضمحلال پیدا ہو جائے گا۔ تَذُوقُوا السُّوءَ میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر تم معاہدات تو ڑو گے تو تم دنیا کے فائدہ کی خاطر دین کو بھی نقصان پہنچاؤ گے۔ یہ جو فرمایا کہ ایک قدم قائم ہونے کے بعد پھسل جائے گا، اس میں قدم سے مراد مسلمانوں کی حکومت کا استحکام ہے اور قدم کی تنکیر عظمت کے اظہار کے لئے ہے اور اس میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام کی بشارت ہے۔ ان آیات میں جو معاہدات پر اس قدر زور دیا گیا ہے ، اس میں اس امر کی خبر دی گئی ہے کہ مسلمان ساری دنیا پر چھا جائیں گے ۔ کیونکہ جس قوم کے معاہدات توڑنے سے دنیا میں فساد بر پا ہو جاتا ہے وہ وہی قوم ہوتی ہے جو اپنے زمانہ میں سب اقوام پر غالب ہو ور نہ کمزور اقوام کو معاہدہ توڑنے کی جرات ہی نہیں ہو سکتی اور نہ ان کے معاہدہ توڑنے سے دنیا پر کوئی زلزلہ آتا ہے۔ پس اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظمت کی خبر دیتے ہوئے نصیحت فرماتا ہے کہ تم اپنے معاہدات کو اچھی طرح نباہنا اور سمجھ سوچ کر معاہدات کرنا۔“ ( تفسير كبير ، تفسير سورة النحل، آیت وَلَا تَتَّخِذُوا أَيْمَانَكُمْ دَخَلا بَيْنَكُمْ ، جلد ۴ صفحه ۲۳۲) الْكَبَائِرُ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسُ: هِيَ اليمين الكاذبة الْفَاجِرَةُ كَالَّتِي يَقْتَطِع بِهَا الخَالِفُ مَالَ غَيْرِهِ سميت محموساً ، لأَنَّهَا تَغْيسُ صاحبها في الإِثْمِ ، ثُمَّ فِي النَّارِ ، وفَعُول للمبالغة۔۔ كانت عادتهم أَن يُحضروا في جَفْنَةٍ طِيبًا أَوْ دَماً أَوْ رَماداً ، فيُدخلون فِيهِ أَيْدِيَهُم عِنْدَ التَّحالُف لِيَتم عقدهم عَلَيْهِ باشتراكهم في شَيْءٍ واحد یہ وہ جھوٹی اور گناہ پر مبنی قسم ہے جس سے قسم کھانے والا کسی دوسرے کا مال مارتا ہے۔ اسے غموس کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ قسم اُسے گناہ اور پھر جہنم میں ڈبو دیتی ہے۔ یہ مفعول کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ عربوں کا طریق تھا کہ وہ ایک لگن میں خوشبو یا خون یارا کچھ ڈال دیتے اور قسم کھاتے ہوئے اس (طب) میں اپنے ہاتھ ڈبوتے تاکہ ایک امر میں سب کی شراکت کا معاہدہ مکمل ہو۔ اکثر اہل علم کے نزدیک یمین غموس کا کفارہ نہیں۔ ابن بطال مالکی نے اسے جمہور سے نقل کیا ہے۔ ابراہیم نخعی، حسن بصری، امام مالک اور اہل مدینہ اور اہل شام میں سے امام اوزاعی، ثوری اور تمام فقہائے احناف، امام احمد بن حنبل، اسحاق، ابو عبید اور محدثین کا یہی مسلک ہے۔ امام شافعی نے کہا ہے : اس میں کفارہ ہے اور تابعین کی ایک جماعت کا بھی یہی قول ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۱۹۳) النهاية في غريب الحديث والأثر ، بَابُ الْغَيْنِ مَعَ الْهِيمِ ، غمس)