صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 462 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 462

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۶۲ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور مَكَانَهَا وَمَنْ لَّمْ يَكُنْ ذَبَحَ فَلْيَذْبَحْ سے مخاطب ہوئے اور آپؐ نے فرمایا: جس نے ذبح بِاسْمِ اللهِ۔ کر لیا ہو تو چاہیے کہ وہ اس قربانی کے بدلے اور أطرافه: ۹۸۰ ، ٥٥٠٠، ٥٥٦٢، ٧٤٠٠- ذبح کرے اور جس نے ذبح نہ کیا ہو تو وہ اللہ کا نام لے کر اب ذبح کرے۔ تشريح : إِذَا حَيْتَ تَأْسِي فِي الْأَيْمَان: اگر قسم کھانے کے بعد بھول کر اس کو توڑ ڈالے۔ امام بخاری لفظ ”اذا“ سے عنوان باب شروع کر کے اس کے جواب کو کبھی مقدر کر دیتے ہیں۔ اور اس کا جواب روایتوں کی ترتیب سے واضح ہوتا ہے۔ علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: امام بخاری نے عنوان باب إِذَا حَيْتَ نَاسِيًّا في الایمان سے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا ایسے شخص پر کفارہ واجب ہے جو قسم کھانے کے بعد بھول کر قسم توڑ دے۔ وہ لکھتے ہیں: اس بارہ میں معنونہ آیت وَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَاتُمُ بِهِ (الأحزاب:1) واضح ہے۔ نیز مہلب کے حوالہ سے وہ لکھتے ہیں کہ اس باب اور اس کی ذیل میں بیان کردہ احادیث سے امام بخاری کا مقصد یہ ہے کہ قسم توڑ نے میں عدم علم اور نسیان کے عذر کا اثبات کفارہ کو ساقط کر دیتا ہے۔ علامہ ابن حجر نے اس باب میں مذکور تمام احادیث کی عنوان باب کے ساتھ تطبیق کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ امام بخاری بلا ارادہ اور نسیان کی صورت میں قسم توڑنے کا کفارہ واجب نہیں سمجھتے۔ ( فتح الباری، جزءا اصفحہ ۶۷۰ ، ۶۷۱) حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ( البقرة : ٢٨٦)۔ اكْتَسَبَتْ میں واضح نیت اور ارادے کا معنی پایا جاتا ہے۔ تو دیکھئے یہ بھی کتنا احسان اور مغفرت کا سلوک ہے۔ دراصل غُفْرَانَكَ کا جواب ہے فرمایا، ہاں غفران کا سلوک کروں گا اس طرح کہ نیکی تم سے راہ چلتے اتفاقا بھی ہو جائے تو میں کہوں گا کہ تمہارے حساب میں لکھ لی جائے اور فرشتے تمہارے حساب میں لکھ لیا کریں گے لیکن بدی کے متعلق احتیاط کا حکم دوں گا کہ دیکھنا اس کی نیت تھی کہ نہیں، ارادہ تھا کہ نہیں۔ چنانچہ حضرت آدم کے ذکر میں فرمایا: وَ لَم نَجِدْ لَهُ عَزْما (طہ: ۱۱۶) ہم نے جو اس سے مغفرت کا سلوک فرمایا تو وَلَمْ نَجِدُ لَهُ عزما۔ ہم نے خوب ٹٹول کر دیکھا، اس کی نیت میں عزم نہیں پایا جاتا تھا۔ ٹھو کر کھائی تھی ، غفلت ہو گئی تھی۔ “ (خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۲ / اپریل ۱۹۹۱ء، جلد ۱۰صفحه ۳۱۶) ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور اس معاملہ میں جو تم غلطی کر چکے ہو اس کا تم پر کوئی گناہ نہیں۔“