صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 21
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۲۱ ۸۰- كتاب الدعوات إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فَإِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ (صادق) طلوع ہوتی تو آپ دو ہلکی سی رکعتیں صَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ اضْطَجَعَ پڑھتے۔پھر اپنی داہنی کروٹ کے بل لیٹ جاتے عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَجِيءَ یہاں تک کہ مؤذن آتا اور آپ کو اطلاع دیتا۔الْمُؤَذِّنُ فَيُؤْذِنَهُ۔أطرافه ٦٢٦، ۹۹٤، ۱۱۲۳، ۱۱۶۰، ۱۱۷۰۔ریح : الضَّجُحُ عَلَى القِ الْأَيْمَنِ: داہنی کروٹ پر لیٹنا۔علامہ ابن حجر بیان کرتے ہیں کہ دائیں کروٹ لیٹنے کے فوائد میں سے یہ بات بھی ہے کہ ایسا کرنا جلد بیدار ہونے میں محمد ہے اور یہ کہ نیند سے بوجھل پن بھی پیدا نہیں ہو تا۔(فتح الباری جزء ۱۱ صفحہ ۱۳۲) بَابِ ٦ : إِذَا بَاتَ طَاهِرًا جب رات بھر باوضور ہے ٦٣١١: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۶۳۱۱: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ معتمر (بن مُعْتَمِرٌ قَالَ سَمِعْتُ مَنْصُورًا عَنْ سلیمان نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: میں نے سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ منصور سے سنا۔منصور نے سعد بن عبیدہ سے بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ روایت کی۔انہوں نے کہا: حضرت براء بن عازب لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما نے مجھے بتایا۔وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تم اپنے بستر پر آؤ تو وضو کرو، اسی طرح کا وضو جو تم اپنی نماز کے لئے کرتے ہو۔پھر اپنی دائیں کروٹ پر إِذَا أَتَيْتَ مَضْجَعَكَ فَتَوَضَّأْ وَضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ اضْطَجِعْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لیٹو اور یہ دعا کرو: اے اللہ ! میں نے اپنے آپ کو إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا تیرے سپر د کیا اور میں نے اپنا معاملہ تجھے سونپ دیا اور میں نے تیری رضامندی کی اُمید کرتے مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ ہوئے اور تیری ناراضگی سے ڈرتے ہوئے تجھے ہی بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي اپنا پشت پناہ بنایا ہے۔نہ تو کوئی جائے پناہ ہے اور أَرْسَلْتَ فَإِنْ مُتَّ مُتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ نہ تجھ سے بیچ کر نجات کی کوئی جگہ ہے مگر تیرے