صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 453
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۳ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور تشریح : قَوْلُ الرَّجُلِ لَعَمرُ الله: آدمی کا کہا: اللہ کی بت کی قسم۔ امام راغب بیان کرتے ہیں کہ لفظ الْعَمْرُ حرف ”ع“ کی زبر کے ساتھ بھی آتا ہے اور پیش کے ساتھ بھی، دونوں کا معنی ایک ہی ہے یعنی جسم میں زندگی کی مدت، لیکن قسم کے موقع پر یہا موقع پر یہ لفظ ”ع“ کی زبر کے۔ ازبر کے ساتھ ”الْعَمْرُ“ ہی آتا ہے۔ (المفردات فی غريب القرآن، عمر ) ابوالقاسم زجاج نے کہا ہے کہ لفظ الْعُمْرُ کے معنی ہیں زندگی۔ اور جس نے کہا: تعمر اللہ۔ تو گویا اُس نے اللہ تعالی کی بقاء کی قسم کھائی ہے۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ حرف "ل“ تاکید کے لیے ہے اور یہاں خبر محذوف ہے : ما أُقْسِمُ به یعنی جس کی میں قسم کھاتا ہوں۔ ( (فتح الباری: ی، جزءا اصفحه ۶۶۶) فقہاء نے یہ بحث اٹھائی ہے کہ تعمرُ الله ، اللہ کی بقا کی قسم۔ کیا ان الفاظ میں قسم کھائی جاسکتی ہے؟ فقہاء کو فہ اور امام مالک کے نزدیک یہ الفاظ قسم ہیں۔ امام شافعی کہتے ہیں: یہ کنایہ ہے۔ یعنی بغیر نیت یہ قسم نہیں ہو گی۔ امام اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ (عمدۃ القاری، جزء ۲۳ صفحہ ۱۸۶) زیر باب حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت اُسید بن حضیر نے لَعَمْرُ الله کے الفاظ سے قسم کھائی۔ چونکہ قسم کے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں استعمال ہوئے اور آپؐ نے ان کارڈ نہیں فرمایا اس لئے حدیث تقریری کے طور پر ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سند مل گئی۔ دیگر روایات سے ثابت ہوتا۔ ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی تعمر اللہ کے الفاظ بطور قسم استعمال فرمائے۔ مسند احمد بن حنبل میں حضرت لقيط بن عامر سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ سے قسم کھائی۔ پس جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اس کے لئے کسی فقہی دلیل کی ضرورت نہیں۔ کیا خوب فرمایا ہے : محمد تہست برہان محمد ۔ (سراج منیر، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه (۱۴) بَاب ١٤ : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ ( البقرة: ٢٢٦) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) اللہ تمہاری قسموں میں سے جو لغو ہیں اُن پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا بلکہ ان پر مواخذہ کرے گا جن پر تمہارے دلوں نے ارادہ کیا ہے اور اللہ بہت ہی پردہ پوشی کرنے والا بہت ہی بردبار ہے ٦٦٦٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۶۶۶۳: محمد بن مثنیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ بچی حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ أَخْبَرَنِي (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ ) (مسند احمد بن حنبل، مسند المدنيين، حديث أبي رزين العقيلي لقيط بن عامر ، جلد ۴ صفحه ۱۳)