صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 454 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 454

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۴ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا لا سے روایت کی، کہا: میرے باپ نے مجھے خبر دی۔ يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ ( البقرة: ٢٢٦) قَالَ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي قَوْلِهِ لَا وَاللهِ وَبَلَى کی۔ وہ کہتے تھے ، حضرت عائشہ نے کہا کہ آیت لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ اس قسم کی قسمیں کھانے وَاللهِ۔ طرفة ٤٦١٣ - کے متعلق نازل کی گئی: لا والله اور بلی واللہ یعنی اللہ کی قسم نہیں، اللہ کی قسم کیوں نہیں۔ تشريح : لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوا بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ : اللہ تمہاری قسموں میں سے جو لغو ہیں اُ وں میں سے جو لغو ہیں اُن پر تم سے مواخذہ نہیں کرے گا۔ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: جن کو عادت ہے قسمیں کھاتے چلے جانا بے سوچے سمجھے اور دیکھتے نہیں کہ کیا بات کہہ رہے ہیں ، بعض دفعہ جھوٹ بھی بیچ میں ہو جاتا ہے۔ تو فرمایا کہ اس قسم کی جو قسمیں ہیں تمہیں عادتیں گندی پڑی ہوئی ہیں تو اللہ تعالی در گزر فرمادے گا لیکن اگر قسم کھا کر تم نے کوئی نا جائز بات کہی اور ارادہ یہ ہوا کہ اس قسم سے تو تم کوئی ناجائز فائدہ اُٹھا لو تو پھر تمہیں خدا تعالیٰ پکڑے گا۔“ (روزنامہ الفضل ربوہ، ۱۳ نومبر ۹ ۱۹۹۹ء، صفحہ ۳) حضرت مصلح موع موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لغو قسم سے مراد وہ قسم ہے جو عادت کی وجہ سے کھائی جائے۔ جیسے بعض کو بلا سوچے والله، باللہ کہنے کی عادت ہوتی ہے یا وہ قسم جس کے کھانے والا یقین رکھتا ہو کہ وہ درست ہے لیکن اس کا یقین غلط ہو یا شدید غصہ میں قسم کھا لینا کہ جب ہوش و جو اس ٹھکانے نہ ہوں یا حرام شے کے استعمال یا فرض و واجب عمل کے ترک کے متعلق کسی وقتی جوش کے ماتحت قسمیں کھا لینا، یہ سب قسمیں لغو ہیں اور ان کے توڑنے پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ ان کے کھانے پر توبہ اور استغفار کا حکم ہے کیونکہ ھم عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ( مومنون ع (۱) کے خلاف ایسی قسمیں ہیں۔ پس ان کے کھانے والا خطی یا گنہگار ہے۔ اُسے اپنے گناہ پر تو بہ اور ندامت کا اظہار کرنا چاہیے نہ یہ کہ ان کے توڑنے کے لئے کسی کفارہ کی ضرورت ہے۔ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے لا