صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 451 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 451

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۱ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور (الدخان: ۵۰) پس ربّ العزت کے یہ معنی بھی ہوئے متکبر ، ضدی، ہٹ والا۔جبار کے معنی مصلح کے بھی ہیں اور ظالم کے بھی۔مصلح کو تو عذاب ہو نہیں سکتا۔اور ظالم کے حق میں آیا ہے خَابَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِيْده مشکوۃ صفحہ ۴۹۶ میں ہے۔ہب ہب دوزخ میں ایک وادی ہے اس میں جبار لوگ داخل ہوں گے۔قدم : جس شخص کو کہیں بھیجا جاوے اسے قدم کہتے ہیں۔قاموس اللغہ میں ہے: 66 قدمُهُ أَى الَّذِينَ قَدَمُهُمْ مِّنَ الْأَشْرَارِ فَهُمْ قَدَمُ اللَّهِ لِلنَّارِ كَمَا أَنَّ الْخَيَارَ قَدَمُ الله لِلْجَنَّةِ وَوَضْعُ الْقَدَمِ مِثْلَ الزَّوْعِ وَالْقَمَعِ “ احادیث میں ہے دِماءُ الجاهلية موضوعة تحت قدمی۔۔۔۔قدم اس کا وہ بد لوگ ہیں جن کو وہ حسب ان کے اعمال کے آگ میں بھیجے گا۔جیسے کہ برگزیدہ لوگ بہشت کے لئے قدم اللہ ہیں۔یعنی وہ جنہیں حسب ان کے اعمال کے اللہ تعالیٰ بہشت میں بھیجے گا۔اور قدم رکھنے کے اصل معنی ہیں روک دینا اور بیخ کنی کر دینا۔جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاہلیت کے خون میرے قدم کے نیچے رکھے گئے ہیں۔یعنی میں ان کے انتقاموں سے قوم کو منع کرتاہوں اور ان کو مسلتا ہوں۔رجل کے معنی قوم، جماعت۔عربی زبان میں آتا ہے رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ۔یعنی ٹڈیوں کا ٹڈی دل جماعت۔اب کس قدر صاف معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہنم کو فرمائے گا کیا تو بھر چکی ؟ وہ عرض کرے گی: کیا کچھ اور بھی ہے ؟ تب اللہ تعالیٰ شریروں اور ظالموں اور ان کی جماعت کو جو جہنم کے لائق ہیں سب کو جہنم میں ڈال دے گا۔خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ ترکی اور جہنمی ترک اور جہنم میں داخل کئے جاویں گے اور یہی انصاف و عدل ہے۔اب بتاؤ اس پر کیا اعتراض ہوا۔“ (نورالدین بجواب ترک اسلام، طبع سوم صفحه ۲۷۷ تا ۲۷۹) مزید تفصیل کے لئے دیکھئے بخاری کتاب التفسیر، تفسیر سوره ق ، شرح باب وَ تَقُولُ هَلْ مِنْ قَرِيدٍ (مشکوۃ المصابیح، کتاب احوال القيامة، باب صفة النار وأهلها، الفصل الثاني)