صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 450
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۵۰ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: آیا قرآن کریم کی قسم کھانا جائز ہے یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ملکی رواج کو مد نظر رکھ کر قرآن کریم کی قسم کھائی جائے تو میرے نزدیک جائز ہے کیونکہ مد مقابل پر قرآن کریم کی قسم کھانے سے غیر معمولی اثر پڑتا ہے۔66 ( تفسیر کبیر، تفسیر سورة البقرة آيت لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ باللغوق أَيْمَانِكُمْ ، جلد ۲ صفحه ۵۰۸) لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَّزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ فِيهَا قَدَمَهُ: جہنم برابر یہی کہتی رہے گی: کیا کچھ اور بھی ہے ؟ یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا قدم رکھے گا۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ ایک آریہ کے اعتراض ”خدا اپنے دونوں پاؤں دوزخ میں ڈال دے گا اور جہنم کو سیر کر دے گا“ کے جواب میں فرماتے ہیں: تمہارے یہاں پر میشور کا نام سرب بیا پک ہے تو کیا وہ نرک میں نہیں ہے۔قرآن کریم میں صرف اس قدر ہے کہ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاتِ وَتَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ (قَ: ۳۱) اور جو تم نے مفسروں کا قول نقل کیا ہے اس میں یہ ہے جہنم هَلْ مِن مزید کہتی رہے گی حَتَّى يَضَعَ رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ اور کہیں ہے : يَضَعُ الْجَبَّارُ قَدَمَهُ اور کہیں ہے : حَتَّى يَضَعَ اللهُ رِجْلَهُ۔پس قبل اس کے کہ تم کو مفصل جواب دیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ ذیل کے معنی لغت عرب سے لکھ دیں۔جہنم ، ربّ، عزت، جبار ، قدم، رجل۔جهنم : دوزخ، نرک، عذاب کی جگہ۔ربّ کے معنی بڑا پالن ہار۔یہ لفظ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا گیا ہے اور دنیا داروں، بڑے آدمیوں پر بھی۔فرعون نے کہا: انا ربکم الاعلى (النازعات: ۲۵) یوسف علیہ السلام نے ایک قیدی کو جو رہا ہونے والا تھا فرمایا کہ اذكرني عِندَ رَبَّكَ (يوسف:۴۳) یعنی اپنے مالک و امیر کے پاس میر اذکر کیجئیو۔اور اسی رب کی جمع ارباب ہے جس کے متعلق فرمایا کہ وَارْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرُ امِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُه (يوسف:۴۰) عزت بڑائی، حمایت، جاہلوں کی ہٹ۔قرآن شریف میں شریروں کے متعلق فرمایا: اخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ (البقرۃ:۲۰۷) اور فرمایا ہے کہ جب شریر کو عذاب اور دُکھ دیا گیا تو کہا جاوے گا ذُقُ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْكَرِيمُ )