صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 448 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 448

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۸ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک ٹھہرائے گا۔اور ان کے لئے دردناک عذاب (مقدر) ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر ) جب کسی امر میں کوئی انسان گواہی کی انتہائی حد قسم کو اختیار کرتا ہے چونکہ وہ اپنے اس عمل پر خدا کو گواہ بناتا ہے، اگر وہ عمل ظالمانہ ہو اور کسی کا حق مارا گیا ہو تو یہ جرم اپنی سنگینی میں بہت بڑھ جاتا ہے۔اس لئے اس کی سزا بھی بہت بڑی ہے اور آخرت میں اس سے بڑی سزا کوئی اور نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو دیکھنا پسند نہ کرے اور اس سے بات نہ کرے اور اس کی ناپاکیوں کو دور نہ کرے جن کے ہوتے ہوئے اس بندے میں اور خدا میں ایسی خلیج حائل رہے کہ وہ بعد اس انسان کو قرب الہی سے محروم رکھے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: الہی قانون قدرت اور انسانی صحیفہ فطرت اور انسانی کا نشنس خود گواہی دے رہا ہے که خصومتوں کے قطع کے لئے انتہائی حد قسم ہی ہے اور ایک راستباز انسان جب کسی الزام اور شبہ کے نیچے آجاتا ہے اور کوئی انسانی گواہی قابل اطمینان پیش نہیں کر سکتا تو بالطبع وہ خدا تعالی کی گواہی سے اپنی راستبازی کی بنیاد پر مد دلیتا ہے اور خدا تعالی کی گواہی یہی ہے کہ وہ اس ذات عالم الغیب کی قسم کھا کر اپنی صفائی پیش کرے اور جھوٹا ہونے کی حالت میں خدا تعالیٰ کی لعنت اپنے پر وارد کرے۔یہی طریق آخری فیصلہ کا نبیوں کے نوشتوں سے ثابت ہوتا ہے۔“ ( انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۰۵،۱۰۴) بَاب ۱۲ : الْحَلِفُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَصِفَاتِهِ وَكَلِمَاتِهِ اللہ کی عزت، اس کی صفات اور اس کے کلام کی قسم کھانا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اور حضرت ابن عباس نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ فرمایا کرتے تھے: میں تیری عزت کی پناہ لیتا ہوں۔وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ اور حضرت ابو ہر پر ڈ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْقَى رَجُلٌ بَيْنَ الْجَنَّةِ روایت کی کہ ایک شخص جنت اور جہنم کے درمیان وَالنَّارِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ اصْرِفْ وَجْهِي رہے گا اور کہے گا: اے میرے رب ! میرے منہ عَنِ النَّارِ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ کو آگ کی طرف سے پھیر دے۔بس تیری ہی عزت کی قسم ہے کہ میں اس کے سوا تجھ سے اور غَيْرَهَا۔کوئی سوال نہیں کروں گا۔