صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 447
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۷ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور سُلَيْمَانَ وَمَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ شعبہ نے سلیمان (بن اعمش ) اور منصور ( بن معتمر ) عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ سے، ان دونوں نے ابووائل سے، ابووائل نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے، عَلَى يَمِينِ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ حضرت عبد اللہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت رَجُلٍ مُسْلِمٍ - أَوْ قَالَ أَخِيهِ - لَقِيَ کی۔آپ نے فرمایا: جس نے جھوٹی قسم کھائی کہ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَأَنْزَلَ اللهُ اس کے ذریعہ سے وہ کسی مسلمان شخص کا مال یا کہا تَصْدِيقَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ اپنے بھائی کا مال مارنا چاہتا ہے تو وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ وہ اس سے ناراض ہو گا۔پھر (آل عمران: ۷۸) اللہ نے اس قول کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی: یعنی وہ لوگ جو اللہ کے عہد کے بدلے میں قیمت حاصل کرتے ہیں۔أطرافه ٢٣٥٦، ٢٤١٦، ٢٥١٥، ٢٦٦٦، ٢٦٦٩ ، ٢٦٧٣، ٢٦٧٦، ٤٥٤٩، ٦٦٧٦، ۱۸۳، ٧٤٤٥۔٦٦٦٠: قَالَ سُلَيْمَانُ فِي حَدِيثِهِ :۶۶۶۰ سلیمان نے اپنی حدیث میں یوں کہا کہ فَمَرَّ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسِ فَقَالَ مَا حضرت اشعث بن قین گزرے اور پوچھا: حضرت يُحَدِّثُكُمْ عَبْدُ اللهِ قَالُوا لَهُ فَقَالَ عبد اللہ تم سے کیا بیان کر رہے تھے ؟ تو انہوں نے الْأَشْعَثُ نَزَلَتْ فِيَّ وَفِي صَاحِبِ لِي ان کو بتایا تو حضرت اشعث کہنے لگے: یہ آیت فِي بِثْرٍ كَانَتْ بَيْنَنَا۔میرے متعلق اور میرے ایک ساتھی کے متعلق نازل ہوئی بسبب ایک کنویں کے جو ہمارے درمیان مشترک تھا۔أطرافه ٢٣٥٧، ٢٤١٧، ٢٥١٦، ٢٦٦٧، ٢٦٧٠، ٢٦٧٧، ٤٥٥٠ ٦٦٧٧، ٧١٨٤- و و شریح: عَهْدُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: اللہ عزوجل کا عبد إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَ أَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولبِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيِّمَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمُ ٥ ( آل عمران: ۷۸) یعنی جو لوگ اللہ کے ساتھ اپنے عہدوں اور قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں ان لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور قیامت کے دن اللہ اُن سے بات نہیں