صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 444
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۴ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِّنَ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِّنَ الْوَلَدِ تَمَسُّهُ النَّارُ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس کسی إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ۔ أطرافه: 10۲، 1850، 1351۔ کے تین بچے فوت ہوں آگ اسے نہیں چھوٹے گی مگر صرف قسم پورا کرنے کے لئے۔ ٦٦٥٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ۶۶۵۷ : محمد بن مثنی نے ہم سے بیان کیا کہ غندر نے حَدَّثَنِي غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَّعْبَدِ مجھے بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے بْنِ خَالِدٍ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ معبد بن خالد سے روایت کی، (کہا:) میں نے حضرت سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حارثہ بن وہب سے سنا، وہ کہتے تھے : میں نے نبی يَقُولُ أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ی ایام سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: کیا میں تمہیں ضَعِيفٌ مُتَضَعِفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ جنتیوں کا پتہ نہ دوں؟ ہر وہ غریب انکساری کرنے الترسل علوم والا، جو اگر اللہ کو بھی قسم دے تو وہ ضرور ہی اس کی لَأَبَرَّهُ وَأَهْلُ النَّارِ كُلُّ جَوَاطٍ عُتُل تم کو پورا کرے اور کیا میں تمہیں دوزخیوں کا پتہ مُسْتَكْبِرٍ۔ أطرافه: ٤٩١٨، ٦٠٧١ - نہ دوں ؟ ہر مغرور ، سرکش اور متکبر شخص۔ تشریح : وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ : انہوں نے اللہ کی بڑی کی قسمیں کھائیں۔ مکمل آیت یہ ہے: وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَتْهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا الْأَيْتُ عِنْدَ اللهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ (الأنعام: ۱۱۰) وہ اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ان کے پاس ایک بھی نشان آجائے تو وہ اس پر ضرور ایمان لے آئیں گے ۔ تو کہہ دے کہ ہر قسم کے نشانات اللہ کے پاس ہیں لیکن تمہیں کیا سمجھائے کہ جب وہ (نشانات) آتے ہیں وہ ایمان نہیں لاتے۔ (ترجمہ حضرت خلیفة المسیح الرابع ) امام بخاری نے نے معنونہ آیت اور قول "لا تُقْسِمُ “ (یعنی قسم نہ کھاؤ) ھاؤ) پیش کر کے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پختہ قسم کھانے کے متعلق انتہائی احتیاط سے کام لو اور اگر قسم کھاؤ تو پھر اسے پورا بھی کرو۔ جیسا که زیر باب حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت سے عیاں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں قسم کو پورا کرنے کا حکم دیا کرتے۔ دیا کرتے تھے۔ (روایت نمبر ۶۶۵۴) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَ أَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عُهَدُ ثُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْلِيدِهَا وَقَدْ جَعَلْتُمُ اللهَ عَلَيْكُمْ كَفِيلًا إِنَّ اللهَ يَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ (النحل : ۹۲) اور تم اللہ کے عہد کو پورا کرو جب تم عہد کرو اور قسموں کو ان کی پختگی کے بعد نہ توڑو توڑو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر کفیل بنا چکے ہو۔ اللہ یقیناً جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ (ترجمہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع)