صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 445
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۴۵ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: وو ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور خد اتعالیٰ کے ساتھ تم جو عہد کرتے ہو ، اس کو بھی پورا کرو اور جو تمہارے آپس میں معاہدات ہوتے ہیں ان کو بھی مت توڑو۔یعنی جب تم خدا تعالیٰ کو ضامن کر کے کسی انسان سے معاہدہ کرو تو اُس کو ضرور پورا کرو کیونکہ تم خدا تعالیٰ کو ضامن مقرر کر چکے ہو۔پس خدا کا نام لے کر کئے ہوئے معاہدہ کو اگر تم توڑو گے تو گویا خدا تعالیٰ کو بدنام کرنے والے بنو گے اور خدا تعالیٰ کو غیرت آئے گی اور اسے تمہیں سزا دینی پڑے گی۔“ ( تفسیر کبیر ، تفسير سورة النحل، آیت وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللهِ إِذَا عَهَدُ قُم ، جلد ۴ صفحه ۲۲۷، ۲۲۸) بَاب ١٠ : إِذَا قَالَ أَشْهَدُ بِاللَّهِ أَوْ شَهِدْتُ بِاللَّهِ اگر کوئی یوں کہے: أَشْهَدُ بِاللهِ أَوْ شَهِدتُ بِاللهِ یعنی میں اللہ کی قسم کھاکر شہادت دیتا ہوں یا میں نے اللہ کو گواہ ٹھہراکر قسم کھائی ٦٦٥٨: حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا :۶۶۵۸: سعد بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ شَيْبَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ شِيبان بن عبد الرحمن محوی ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور ( بن معتمر) سے منصور نے ابراہیم (شخصی) عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے، عبیدہ نے صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔قَالَ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ کونے لوگ بہتر ہیں ؟ آپ نے فرمایا: میرے زمانہ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ کے لوگ، پھر وہ جو اُن کے بعد ہوں گے ، پھر وہ جو اُن کے معابعد آئیں گے ، پھر ایسے لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک قسم سے پہلے گواہی دے گا اور گواہی سے پہلے قسم کھائے گا۔قَالَ إِبْرَاهِيمُ وَكَانَ أَصْحَابُنَا يَنْهَوْنَا ابراہیم (شخصی) نے کہا: اور ہمارے لوگ جبکہ ہم بچے وَنَحْنُ غِلْمَانٌ أَنْ نَخْلِفَ بِالشَّهَادَةِ تھے ہمیں منع کیا کرتے تھے کہ ہم گواہی یا عہد میں وَالْعَهْدِ۔قسم کھائیں۔أطرافه: ٢٦٥٢، ٣٦٥١، ٦٤٢٩۔