صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 20 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 20

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بڑھاپے میں آکر جبکہ قوی بیکار اور کمزور ہو جائیں گے ، آخر ان سب لذاتِ دُنیا کو چھوڑنا ہو گا۔پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب لذات چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر اُن کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اول اقلاع کا خیال پیدا ہو، یعنی خیالات فاسدہ و تصورات بیہودہ کا قلع قمع کرے۔جب یہ نجاست اور ناپاکی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کرلے کہ پھر اُن برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا، تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہاں تک کہ وہ سیئات اس سے قطعا زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعالِ حمیدہ اُس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرمایا: ان القوة للهِ جَمِيعًا (البقرة : ١٦٦) ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔خُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء:۲۹) اس کی حقیقت ہے۔پس خدا تعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو کامل کر کے انسان کسل اور سستی کو چھوڑ دے اور ہمہ تن مستعد ہو کر خدا تعالیٰ سے دُعا مانگے۔“ (ملفوظات جلد اول صفحہ ۸۸٬۸۷) باب ٥ : الصَّجْعُ عَلَى الشَّقِّ الْأَيْمَنِ داہنی کروٹ پر لیٹنا ٦٣١٠ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۳۱۰: عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کیا کہ ہشام بن یوسف نے ہمیں بتایا۔معمر نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے عروہ سے ، عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ رات کو گیارہ رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔جب صبح عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ