صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 19
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۹ ٨٠ - كتاب الدعوات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: استغفار اور توبہ دو چیزیں ہیں۔ ایک وجہ سے استغفار کو تو بہ پر تقدم ہے کیونکہ استغفار مدد اور قوت ہے جو خدا سے حاصل کی جاتی ہے اور تو بہ اپنے قدموں پر کھڑا ہونا ہے۔ عادۃ اللہ یہی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے مدد چاہے گا تو خدا تعالیٰ ایک قوت دے دے گا اور پھر اس وقت کے بعد انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہو جاوے گا اور نیکیوں کے کرنے کے لئے اُس میں ایک قوت پیدا ہو جاوے گی جس کا نام تُوبُوا إِلَيْهِ ہے اس لیے طبعی طور پر یہی ترتیب ہے۔ غرض اس میں ایک طریق ہے جو سالکوں کے لئے رکھا ہے کہ سالک ہر حالت میں خدا سے استمداد چاہے۔ سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا، کیا کر سکے گا۔ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے۔ اگر استغفار نہ ہو، تو یقیناً یا د رکھو کہ توبہ کی قوت مر جاتی ہے۔ پھر اگر اس طرح پر استغفار کروگے اور پھر توبہ کروگے ، تو نتیجہ یہ ہو گا: يمتعُكُم مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى (هود: ۴) سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پالو گے۔ ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۴۹) نیز فرمایا: ” یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ توبہ کے تین شرائط ہیں۔ بدوں اُن کی تکمیل کے سچی توبہ جسے توبۃ النصوح کہتے ہیں، حاصل نہیں ہوتی۔ ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں، یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جو ان خصائل رقیہ کے محرک ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے، کیونکہ حیطۂ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔ پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اُن خیالات فاسدہ و تصورات بد کو چھوڑ دے۔ خیالات بد لذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔ یہ پہلی شرط ہے۔ دوسری شرط ندم ہے یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا۔ ہر ایک انسان کا کا نشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے، مگر بد بخت انسان اس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔ پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت