صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 18
صحیح البخاری جلد ۱۵ IA ۸۰ - كتاب الدعوات حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ عُمَارَةَ عَنِ نے حارث بن سوید سے روایت کی۔اور ابو معاویہ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ نے کہا: اعمش نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے التَّيْمِيِّ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ عمارہ سے، عمارہ نے اسود سے، اسود نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) اور ابراہیم تیمی سے، انہوں عَبْدِ الله۔نے حارث بن سوید سے، حارث نے حضرت عبد اللہ سے روایت کی۔٦٣٠٩ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ :۱۳۰۹ اسحاق ( بن منصور ) نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ حَدَّثَنَا حبان (بن ہلال) نے ہمیں خبر دی۔ہمام نے ہمیں أَنَسُ بْنُ مَالِكِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله بتایا۔قتادہ نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس بن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ح۔وَ حَدَّثَنَا هُدْبَهُ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔نیز ہد بہ (بن خالد) نے (بھی) ہم حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ سے بیان کیا کہ ہمام نے ہمیں بتایا۔قتادہ نے ہم رَضِيَ سے بیان کیا۔قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللهُ أَفْرَحُ سے روایت کی۔وہ کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ سَقَطَ عَلَى عليه وسلم نے فرمایا: اللہ اپنے بندہ کی تو بہ پر تم میں بَعِيرِهِ وَقَدْ أَضَلَّهُ فِي أَرْضِ فَلَاةٍ۔سے اس ایک شخص سے بڑھ کر خوش ہوتا ہے کہ جس نے اپنے اونٹ کو یکا یک پالیا ہو جبکہ اس نے اس کو بے آب و گیاہ بیابان میں کھو دیا تھا۔التوبة : تو بہ کرنا۔تَابَ يَتُوبُ تَوْباً وَتَوْبَةٌ إِلَى اللهِ رَجَعَ عَنْ مَّعْصِيَتِهِ إِلَيْهِ نَدَمَ فَهُوَ تَائِب اور شريح : تَابَ الله عَلَيْهِ غَفَرَ لَهُ وَرَجَعَ عَلَيْهِ بِفَضْلِهِ۔یعنی گناہ سے واپس اللہ تعالیٰ کی طرف آجانا اور اپنے گناہ پر شرمندہ ہونا اور تاب اللہ علیہ کا معنی ہے اللہ نے اس کی مغفرت فرمائی اور اپنے فضل کے ساتھ اس کی طرف رجوع فرمایا۔(المنجد - زیر لفظ توب) مشہور محدث عبد اللہ بن مبارک لکھتے ہیں: تو بہ یہ ہے: (۱) گزشتہ گناہوں پر نادم ہونا۔(۲) دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرنا۔(۳) ہر وہ فرض جو گناہ سے ضائع ہو گیا ہو اس کو ادا کرنا۔(۴) کسی کا حق مارا ہو تو وہ حق اس کو ادا کرنا۔(۵) مال حرام سے جو اپنے جسم کو فربہ کیا اس کو مجاہدہ اور غم سے پگھلانا۔(۶) بدن کو معصیت کی جو لذت چکھائی تھی مجاہدہ اور عبادت سے اسے روحانی لذت دینا۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۲۷۹)