صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 416
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۶ ۸۳- كتاب الأيمان والنذور کے لئے مزید معرفت اور سکینت اور یقین کا موجب ہوا اور یہ ایک عام طریق طریق اللہ جل شانہ کا قرآن کریم میں ہے کہ اپنے افعال قدرتیہ کو جو اُس کی مخلوقات میں با قاعدہ منضبط اور مترتب پائے جاتے ہیں او ہیں اقوال شرعیہ کے حل کرنے کے لئے جا بجا پیش کرتا ہے تا اس بات کی طرف لوگوں کو توجہ دلاوے کہ یہ شریعت اور یہ تعلیم اسی ذات واحد لاشریک کی طرف سے ہے جس کے ایسے افعال موجود ہیں جو اُس کے اِن اقوال سے مطابقت کلی رکھتے ہیں کیونکہ اقوال کا افعال سے مطابق آجانا بلاشبہ اس بات کا ایک ثبوت ہے کہ جس کے یہ افعال ہیں اُسی کے یہ اقوال ہیں۔“ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵، حاشیه صفحه ۹۶ تا ۹۸) بَاب ۱ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تمہاری قسموں میں جو لغو ہو اُس پر اللہ تم سے مؤاخذہ نہیں کرتا وَلَكِن يُؤَاخِذُكُمُ بِمَا عَقَد تُمُ الْأَيْمَانَ بلکہ ان قسموں کی وجہ سے تم سے مواخذہ کرتا ہے فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسْكِيْنَ مِنْ جو تم نے پختہ نیت سے کھائی ہیں تو ایسی قسم کا کفارہ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ دس مسکینوں کو اوسط درجہ کا کھانا کھلانا ہو گا جو تم أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدُ فَصِيَامُ اپنے گھر والوں کو کھلایا کرتے ہو یا ان کو کپڑا پہنانا ثَلُثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا ہو گا یا ایک گردن کو آزاد کرنا ہو گا۔ جو طاقت نہ حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ كَذلِكَ يُبَيِّنُ پائے تو تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے۔ یہ اللهُ لَكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ) تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی نگہداشت رکھو، اسی طرح اللہ تمہارے ٩٠) (المائدة: ۹۰) لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تا کہ تم قدر کرو۔ ٦٦٢١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِل ٦٦٢١: محمد بن مقاتل ابوالحسن نے ہم سے بیان أَبُو الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا کیا کہ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ هشام بن عروہ نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام نے اپنے