صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 415
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۵ ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: "خد اتعالیٰ کی قسموں کا انسان کی قسموں کے ساتھ قیاس درست نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا تعالیٰ کو انسان کی طرح کوئی ایسی مشکل پیش نہیں آتی کہ جو انسان کو قسم کے وقت پیش آتی ہے بلکہ اس کا قسم کھانا ایک اور رنگ کا ہے جو اُس کی شان کے لائق اور اُس کے قانونِ قدرت کے مطابق ہے اور غرض اُس سے یہ ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل کرنے کے لئے بطور شاہد کے پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثل أخد اتعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض کھلے کھلے افعال بعض چھپے ہوئے افعال پر گواہ ہیں اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جابجا قرآن کریم میں پیش کیا اور اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اُس نے غیر اللہ کی قسم کھائی کیونکہ وہ در حقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اُس کے افعال اُس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس نیت سے ہے کہ جو کچھ اُس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔سو در حقیقت خدا تعالیٰ کی اس قسم کی قسمیں جو قرآن کریم میں موجود ہیں بہت سے اسرار معرفت سے بھری ہوئی ہیں اور جیسا کہ میں ابھی بیان کر چکا ہوں، قسم کی طرز پر ان اسرار کا بیان کرنا محض اس غرض سے ہے کہ قسم در حقیقت ایک قسم کی شہادت ہے جو شاہد رؤیت کے قائم مقام ہو جاتی ہے اسی طرح خدا تعالیٰ کے بعض افعال بھی بعض دوسرے افعال کے لئے بطور شاہد کے واقعہ ہوئے ہیں۔سو اللہ تعالیٰ قسم کے لباس میں اپنے قانون قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے تا قانونِ قدرت جو خدا تعالیٰ کی ایک فعلی کتاب ہے اس کی قولی کتاب پر شاہد ہو جائے اور تا اس کے قول اور فعل کی باہم مطابقت ہو کر طالب صادق