صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 414 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 414

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۱۴ بسم الله المحمر الو ۸۳ - كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ قسموں اور نذروں کے متعلق احکام ۸۳ - كتاب الأيمان والنذور علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ لفظ الایمان جمع ہے یمین کی اور اس کے لغوی معنی قوت اور طاقت کے ہیں۔کام کرنے والے ہاتھ کو بھی یمین کہتے ہیں۔(عمدۃ القاری جزء ۲۳ صفحہ ۱۶۳) علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: ”ہمین“ لفظ حلف اُٹھانے اور قسم کھانے پر بھی اطلاق پاتا ہے کیونکہ لوگ جب ایک دوسرے کے ساتھ حلفاً کوئی اقرار کیا کرتے تھے تو ہر کوئی اپنے ساتھی کا دائیاں ہاتھ پکڑلیتا تھا۔اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ چونکہ دائیں ہاتھ کا کام کسی چیز کی حفاظت کرنا بھی ہے اور حلف اور قسم کے ذریعہ اس چیز کی حفاظت کی جاتی ہے جس پر قسم کھائی گئی ہو، لہذا حلف اور قسم کو یمنین کہا گیا ہے۔اور شرعی اصطلاح میں اس کے معروف معنی اللہ تعالیٰ کا نام یا اُس کی کسی صفت کا ذکر کر کے کسی چیز یا بات کو پختہ ٹھہرانا ہیں۔نیز لکھتے ہیں: الدور لفظ نذر کی جمع ہے اور اس کی اصل الإنذار یعنی ڈرانا اور خوف دلاتا ہے۔(فتح الباری جزء ۱ ۱ صفحہ ۶۲۹) امام راغب بیان کرتے ہیں کہ نذر کسی چیز کو جو واجب ( یا فرض نہ ہو ، اسے کسی آمر کے واقع ہونے کے ساتھ اپنے اوپر واجب قرار دے لیتا ہے۔(المفردات فی غریب القرآن، نذر ) امام بخاری نے کتاب الایمان والنذور میں ۳۳ ابواب کے تحت ۸۷ روایات کا انتخاب کیا ہے۔ان میں سے ۱۸ نذر کے متعلق ہیں۔حدیث میں قسم اور نذر کو پورا نہ کرنے کا کفارہ ایک ہی بیان کیا گیا ہے: كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ اليمين - قسم کی تین قسمیں ہیں: ۱- یمین غموس۔یعنی جھوٹی قسم کسی واقعہ کے متعلق جانتے ہوئے کہہ دینا اور قسم اٹھانا کہ ایسا نہیں ہے۔اگر اس قسم میں کسی کا حق مارا گیا ہو یا کسی ظلم کا ارتکاب ہوا تو یہ فعل اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضگی کا موجب ہو گا۔(بخاری، روایت نمبر ۶۶۵۹) ۲۔یمین منعقدہ کوئی قسم کھائے کہ میں مستقبل میں یہ کام کروں گا یا نہیں کروں گا۔اگر اس قسم کو توڑے گا تو اس کا کفارہ ادا کرنا ہو گا۔(سورہ مائدہ آیت نمبر ۹۰) ۳۔یمین لغو۔عاد تا قسم کھانا۔جیسے اللہ، باللہ ، بات بات پر کہنا۔اس کا نہ کفارہ ہے نہ مؤاخذہ مگر مومن کو ہر قسم کی لغویات سے بچنے کا حکم ہے۔(المؤمنون: ۴) والدین کی قسم کھانے ، بتوں کی قسم کھانے ، اسلام کے علاوہ کسی ملت اور غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں چاند سورج اور کائنات کی مختلف اشیاء کی قسم کھائی ہے، وہ غیر اللہ کی قسم نہیں ہے کیونکہ تخلیقات خالق کے لئے بطور گواہ ہیں۔(مسند احمد بن حنبل، مسند الشاميين، حديث عقبة بن عامر الجهنی، جزء ۴ صفحه (۱۴۴)