صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 407
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۰۷ ۸۲ - کتاب القدر ثابت قدم ہو یا نہیں اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔تم خدا کی آخری جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔ہر ایک جو تم میں ست ہو جائے گا وہ ایک گندی چیز کی طرح جماعت سے باہر پھینک دیا جائے گا اور حسرت سے مرے گا اور خدا کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا دیکھو میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خد اور حقیقت موجود ہے اگر چہ سب اُسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اُس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چلتا ہے وہ اُس کے پاس آ جاتا ہے جو اُس کے پاس جاتا ہے جو اس کو عزت دیتا ہے وہ اس کو بھی عزت دیتا ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۵) بَاب :۱۳: مَنْ تَعَوَّذَ بِاللَّهِ مِنْ دَرَكِ الشَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ جس نے بد بختی اور بدقسمتی سے اللہ کی پناہ لی وَقَوْلُهُ تَعَالَى قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: تو کہہ میں رب الفلق کی مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ (الفلق : ٢ ، ٣) پناہ لیتا ہوں ہر اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی۔٦٦١٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا :۶۶۱۶ مدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان (بن سُفْيَانُ عَنْ سُمَيْ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ عِینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سمی سے ہمی نے أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوصالح سے، ابوصالح نے حضرت ابوہریرۃ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جَهْدِ سے حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے الْبَلَاءِ وَدَرَكِ السَّقَاءِ وَسُوءِ الْقَضَاءِ روایت کی۔آپ نے فرمایا: مصیبت کی شدت اور بد بختی اور بدقسمتی اور دشمنوں کی ہنسی سے اللہ کی پناہ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ طرفه : ٦٣٤٧ - مانگتے رہو۔