صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 406 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 406

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۰۶ ۸۲- كتاب القدر نے ایک ذرہ کے برابر (بھی) نیکی کی ہوگی وہ اس (کے نتیجہ ) کو دیکھ لے گا۔در حقیقت انسان کا کوئی عمل صالح ضائع نہیں جاتا نہ خدا کی نظر سے اوجھل ہوتا ہے وہ بالا ہستی ہر وقت ہر امر کو دیکھ رہی ہوتی ہے اور وہ ہی فیصلہ فرماتا ہے کہ کب کس کو کیا دینا ہے۔فرماتا ہے: وان من شَيْءٍ إِلا عِنْدَنَا خَزَايِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر: ۲۲) اور کوئی چیز ایسی نہیں جس کے (غیر محدود) خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔لیکن ہم اسے ایک معین اندازے سے ہی اتارا کرتے ہیں۔انسان اپنی بھاگ دوڑ اور سعی لاحاصل سے مایوس ہو کر اسے اپنی قسمت سمجھ کر خاموش ہو جاتا ہے جبکہ یہ بات اس کے سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ نظام قدرت میں ہر چیز انسان کی مرضی کے مطابق نہیں چلتی اور نہ ہر انسان کی ہر مراد پوری ہوتی ہے۔انبیاء سے بڑھ کر خدا کا مقرب کون ہے مگر ان کی بھی ہر مراد پوری نہیں ہوتی۔مثلاً ہر نبی کی یہ دلی مراد ہوتی ہے کہ اس کی قوم کے تمام افراد اس پر ایمان لا کر اپنی دنیا و آخرت بچالیں اور وہ اس کے لیے اس قدر درد سے دعائیں کرتے ہیں کہ اپنے تئیں ہلاکت کے قریب لے جاتے ہیں مگر ان کی دعا ہر ایک کے حق میں قبول نہیں ہوتی اور ایک طبقہ ضرور تقدیر شر کا نشانہ بنتا ہے پس مایوسی کی بجائے اس بات پر ایمان کی ضرورت ہے کہ لا مانع لما أعطى الله کہ اگر اللہ دینے کا فیصلہ کر لے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا اس لیے اپنی ناکامیوں کو دشمنوں یا دوستوں کی سازشوں یا منافقتوں کا نام دینے کی بجائے انسان کو اس منبع خیر کے آگے گریاں و بریاں رہنا ہیئے جس کے فیصلوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا اس کی عطاء کو کوئی روک نہیں سکتا یہ دعا انسان کو بہت ساری الجھنوں سے نکالنے اور خدائے واحد سے تعلق جوڑنے کا مفید ذریعہ ہے اسی مضمون کو اگلے باب میں اس دعا میں بیان کیا گیا ہے کہ تقدیر شر سے بچنے کے لیے خدا کے حضور دعائیں کرنی چاہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: یا درکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے سو خبر دار رہو ایسا نہ ہو کہ ٹھوکر کھاؤ زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت آسمان پر دے گا سو تم اس کو مت چھوڑو اور ضرور ہے کہ تم دکھ دئے جاؤ اور اپنی کئی امیدوں سے بے نصیب کئے جاؤ۔سو ان صورتوں سے تم دلگیر مت ہو کیونکہ تمہارا خدا تمہیں آزماتا ہے کہ تم اس کی راہ میں