صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 403 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 403

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۰۳ -Ar - كتاب القدر جس پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی اور غضب نازل کیا اور بندر اور سور بنا دیا۔اس سے کچھ آیات آگے چل کر پھر آتا ہے وَ قَالَتِ الْيَهُودُ يَدُ اللَّهِ مَغْلُولَةٌ غُلتُ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا (المائدة: (۶۵) یعنی یہودی چندوں اور زکوۃ وغیرہ کے مسائل پر تمسخر کر کے کہتے ہیں۔خدا ان کو مال نہیں دیتا اس کے ہاتھ بند ہو گئے ہیں اور ان کے اس گستاخانہ کلام کی وجہ سے اللہ تعالی نے فیصلہ کر دیا ہے کہ اس قوم میں بخل پیدا ہو جائے گا اور مال کی محبت بڑھ جائے گی اور ان پر خد اتعالیٰ کی لعنت پڑتی رہے گی۔اس کے علاوہ اور متعدد مقامات پر یہود کے ملعون ہونے کا ذکر آتا ہے پس بنی اسرائیل جو ایک نسل کے لوگ تھے ان پر متواتر لعنت پڑی اور قرآن کریم نے بھی ان کی قوم پر لعنت ڈالی اور فرمایا کہ اس قوم کو صرف دو طرح امن ملے گا یا تو یہ دوسری زبر دست قوموں کی پناہ میں چلی جائے یا پھر مسلمان ہو جائے۔ان دونوں طریقوں کے سوا اُن کو کبھی امن نہ ملے گا۔پس میرے نزدیک آیت زیر بحث میں شجرہ ملعونہ سے مراد بنی اسرائیل کی قوم ہے۔( تفسیر کبیر ، سورۃ بنی اسرائیل، زیر آیت وَمَا جَعَلْنَا الدُّنْيَا التي ارتك جلد ۴ صفحه ۳۵۶ تا ۳۵۸) 66 بَاب ۱۱ : تَحَاجَّ آدَمُ وَمُوسَى عِنْدَ اللهِ آدم اور موسی دونوں اللہ کے پاس جھگڑے ٦٦١٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۶۱۴ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَفِظْنَاهُ مِنْ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ہم نے اس حدیث کو عمرو (بن دینار) سے یاد عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رکھا۔اُنہوں نے طاؤس سے روایت کی (انہوں احْتَجَّ آدَمُ وَمُوسَى فَقَالَ لَهُ مُوسَی نے کہا کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ سے سنا۔وہ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُونَا خَيْبْتَنَا وَأَخْرَجْتَنَا نبي صلى اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے۔آپ مِنَ الْجَنَّةِ قَالَ لَهُ آدَمُ يَا مُوسَى نے فرمایا: آدم اور موسیٰ نے آپس میں جھگڑا اصْطَفَاكَ اللهُ بِكَلَامِهِ وَخَطَّ لَكَ بِيَدِهِ کیا۔موسیٰ نے اُن سے کہا: اے آدم ! تم وہی