صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 402
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۰۲ ۸۲ - کتاب القدر (اقرب الموارد - شجر ) یعنی شجرہ نسب اسے کہتے ہیں کہ کسی جد اعلیٰ سے لیکر اس کی اولاد اور پھر ان کی اولاد اور پھر ان کی اولاد کا ذکر کیا جائے۔ان معنوں کے رو سے شجرہ ملعونہ کے معنے ایسے خاندان کے ہو سکتے ہیں جو کئی پشتوں تک خدائی لعنت کے ماتحت رہا ہو یا ر ہنے والا ہو۔ان معنوں کی سند حضرت عائشہ کی طرف منسوب ہونے والی اس روایت سے بھی مل جاتی ہے جو میں اوپر بیان کر آیا ہوں۔بہ روایت تو میرے نزدیک غلط ہے لیکن اس سے ہم عربی کے محاورہ کی سند لے سکتے ہیں۔کیونکہ بہر حال راوی اور جامع حدیث عرب ہیں اور عربی کے محاورہ کو سمجھتے ہیں۔اس تشریح کے بعد ہم دیکھتے ہیں کہ کیا قرآن کریم میں کسی خاندان کو ایک لمبے عرصہ تک خدائی لعنت کے نیچے آنے والا بتایا گیا ہے کہ نہیں۔اگر ایسا ہے تو وہی خاندان شجرہ ملعونہ ہے۔قرآن کریم کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک قوم اور خاندان کے لوگ ایسے ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ کے لئے ملعون قرار دیا ہے۔اور وہ حوالہ یہ ہے۔لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرَاءِيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَ عِيسَى ابْنِ مريم (المائدۃ: ۷۹) بنی اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ان پر داؤد اور عیسی بن مریم نے لعنت کی ہے۔اسی طرح سورۂ نساء میں یہود کا ذکر کر کے فرمایا ہے کہ اے اہل کتاب محمد رسول اللہ پر اس دن سے پہلے ایمان لے آؤ کہ تمہاری قوم پر عذاب آجائے یا ہم ان پر لعنت ڈالیں جس طرح کہ ان کے باپ دادوں پر سبت کے انکار کی وجہ سے لعنت نازل کی گئی تھی۔اسی طرح یہود کی نسبت آتا ہے فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيْثَاقَهُمْ لَعَلَّهُمْ (المائدۃ: ۱۴) یعنی یہود سے وعدہ لیا گیا تھا کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وہ ظاہر ہوں ایمان لائیں گے لیکن انہوں نے چونکہ اس وعدہ کو پورا نہیں کیا اس لئے ہم نے ان پر لعنت بھیجی ہے اسی طرح سورہ مائدہ میں یہود کی نسبت آتا ہے مَنْ لَعَنَهُ اللَّهُ وَغَضِبَ عَلَيْهِ وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ (المائدة: (۶۱) یعنی اے اہل کتاب تم تو وہ قوم ہو۔