صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 401
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲- کتاب القدر گر دلپٹ جائے۔وہ درخت خشک ہو نا شروع ہو جاتا ہے۔اس کی جو قسم ہندوستان میں پائی جاتی ہے اسے اکاس بیل یا امر بیل یا امر للہ کہتے ہیں۔پنجاب میں غالباً اسی کا نام کوڑی ویل ہے۔" تو کوڑی ویل دی طرح ودھیں۔“ یعنی اکاس بیل کی طرح جو بہت جلد پھیل جاتی ہے۔تیری ترقی ہو۔اور جس کے تُو مخالف ہو وہ تباہ ہو جائے۔کیونکہ یہ بوٹی جس درخت سے لپٹ جاتی ہے اسے خشک کر دیتی ہے)۔لیکن ان معنوں کا اتنا بھی ثبوت قرآن کریم سے نہیں ملتا جتنا ثبوت کہ شجرہ زقوم کا ملتا ہے۔بعض روایات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف یہ روایت منسوب کی گئی ہے کہ آپ نے مروان بن الحکم سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے تیرے باپ اور دادا سے کہا کہ إِنَّكُمْ الشَّجَرَةُ الْمَلْعُونَةُ فِي الْقُرْآنِ۔یعنی قرآن کریم میں جو شجرہ ملعونہ کا لفظ آتا ہے اس سے مراد تمہارا خاندان ہے۔بعض نے اس سے مراد وہ شجرہ خبیثہ لیا ہے جس کا ذکر سورۃ ابراہیم ع ۵ میں گذر چکا ہے۔میں خود بھی اس وقت تک یہی معنے کر تا رہا ہوں۔کیونکہ اس کے سوا باقی جس قدر معنے کئے گئے ہیں ان کا کوئی تعلق آیت قرآنی کے الفاظ سے نہیں معلوم ہوتا۔میں اس کی تشریح یہ کیا کرتا ہوں کہ خبیث اس چیز کو کہتے ہیں جس میں کوئی خیر نہ ہو۔اور جس چیز میں کوئی خیر نہ ہو اس کی نسبت قرآن کریم فرماتا ہے کہ فَاما الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء۔یعنی جو چیز جھاگ کی طرح بے کار ہو اسے پھینک دیا جاتا ہے۔اور لعنت بھی دور کرنے کو کہتے ہیں۔پس جس چیز کی نسبت يَذْهَبُ جُفَاء کہا جائے۔دوسرے لفظوں میں اسے ملعون بھی کہہ سکتے ہیں۔مگر اس وقت کہ میں یہ نوٹ لکھنے بیٹھا ہوں مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک اور معنے بھی سکھائے ہیں اور میں وہ معنے بھی لکھ دیتا ہوں کیونکہ ان معنوں کا آیت کے سیاق و سباق سے زیادہ گہرا ربط معلوم ہوتا ہے۔ان معنوں کو سمجھنے کیلئے پہلے شجرة کے معنے سمجھ لینے چاہئیں۔شجرۃ کے معنے درخت کے بھی ہوتے ہیں اور شجرہ کے معنے خاندان یا قبیلہ کے بھی ہیں۔چنانچہ لغت میں لکھا ہے شَجَرَةُ النَّسَبِ مَا يُبْتَدَأَ فِيهَا مِنَ الْجَدِ الأعلى إلى أَوْلَادِهِ ثُمَّ إِلَى أَوْلَادِهِمْ وَهَلَمْ جِرًا