صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 400 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 400

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۴۰۰ ۸۲ - کتاب القدر بلکہ اس کثیف بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے اور اس قسم کے کشفوں میں مؤلف خود صاحب تجربہ ہے۔“ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ حاشیه صفحه ۱۲۶) وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِي الْقُرْآنِ: وہ درخت جسے قرآن میں لعنتی قرار دیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " یہ شجرہ ملعونہ کیا شے ہے ؟ اس بارہ میں مفسرین میں بہت اختلاف ہوا ہے۔بعض کہتے ہیں اس سے مراد شجرة الزقوم ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں تین جگہ آیا ہے یعنی سورۃ واقعہ سورہ صافات اور سورہ دخان میں۔اور اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں جب یہ بیان ہوا کہ دوزخیوں کا کھاناز قوم ہے تو کفار نے اس پر ہنسی اڑائی۔کیونکہ یمن کی لغت میں زقوم اس کھانے کو کہتے ہیں جو مکھن اور کھجور ملا کر تیار کیا جاتا ہے۔کفار نے اس لفظ کو سن کر خوب شور مچایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں زقوم کی خبر دیتا ہے یہ تو اعلیٰ درجہ کا کھانا ہے ہمیں اور کیا چاہیئے۔ان معنوں کے حق میں وہ یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ شجرة زقوم کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے۔اِنَّا جَعَلْنَهَا فِتْنَةٌ لِلظَّالِمِينَ (الصافات: ۶۴) ہم نے زقوم کو ظالموں کے لئے فتنہ کا موجب بنایا ہے۔اور یہی الفاظ فتنہ کے شجرہ ملعونہ کی نسبت آتے ہیں۔مگر انہیں یہ مشکل پیش آئی ہے کہ قرآن میں اس کے ملعون ہونے کا کہیں ذکر نہیں۔اس کا جواب انہوں نے یوں دیا ہے کہ زقوم کی نسبت قرآن کریم میں آتا ہے کہ وہ جہنم میں ہو گا۔اور جو چیز جہنم میں ہو وہ ملعون ہے۔کیونکہ جہنم خدا کے غضب کا مقام ہے۔پھر اس توجیہ پر خود ہی انہوں نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ شجرہ کیونکر ملعون ہو سکتا ہے۔ملعون تو نا فرمان وجود کہلا سکتا ہے اور شجرہ تو بے جان چیز ہے۔اس کا جواب انہوں نے یہ دیا ہے کہ چونکہ اس کے کھانے والے ملعون ہو گئے۔اس لئے وہ شجرہ بھی ملعون کہلائے گا۔بعض نے کہا ہے کہ شجرہ ملعونہ سے مراد شجرۂ کشوف ہے۔یعنی وہ بیل جو درختوں پر چڑھتی ہے تو درخت سوکھ جاتا ہے۔(کشوث افتیمون کے بیجوں کو کہتے ہیں۔افتیمون ایک بیل ہوتی ہے جس کی باریک زرد شاخیں ہوتی ہیں۔جس درخت کے