صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 399 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 399

۳۹۹ ۸۲ - کتاب القدر صحیح البخاری جلد ۱۵ کے انبیاء اور اقوام پر سبقت تک محدود نہیں بلکہ زمانی اور مکانی ہر اعتبار سے آپ کا دائرہ فتوحات اکناف عالم تک ممتد ہے۔اس لیے تقدیر کے ان واضح اشاروں کو نہ سمجھ کر منکرین اس الہی منصوبہ کا حصہ نہ بنے اور لفظی بحثوں میں الجھ گئے کہ ایسا سفر ناممکنات میں سے ہے۔آج بھی آپ کی امت کا ایک بڑا حصہ اس لفظی نزاع میں پڑا ہوا ہے کہ یہ معراج جسمانی تھا یا روحانی اور اُنہوں نے اس پیغام کو نظر انداز کر دیا ہے جو اس معراج میں دیا گیا تھا۔قرآن کریم نے اسے روکیا کہا ہے اور بخاری کی حدیث میں فاستيقظ ( پھر آپ بیدار ہو گئے ) کے الفاظ صاحب بصیرت کے لیے چشم کشا ہونے چاہیں مگر روحانی بینائی سے محروم لوگوں کا قرآن کریم نے نقشہ کھینچا ہے۔يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ وَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ (الأعراف: ١٩٩) وہ تجھے دیکھ رہے ہیں حالانکہ وہ (تجھے ) نہیں دیکھ رہے۔اس کا مصداق یہ کور باطن لوگ ان روحانی اور لطیف اُمور کو کیونکر دیکھ سکتے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” بخاری میں جو اصح الکتب بعد کتاب اللہ الباری ہے۔تمام معراج کا ذکر کر کے اخیر میں فاستيقظ لکھا ہے۔اب تم خود سمجھ لو کہ وہ کیا تھا۔قرآن مجید میں بھی اس کے لئے رویا کا لفظ ہے وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا التي ارينك (بنی اسرائیل: ۲۱) ( ملفوظات ۵ صفحه ۶۳۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں ” اس جگہ اگر کوئی اعتراض کرے کہ اگر جسم خاکی کا آسمان پر جانا محالات میں سے ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج اس جسم کے ساتھ کیوں کر جائز ہو گا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ سیر معراج اس جسم کثیف کے ساتھ نہیں تھا بلکہ وہ نہایت اعلیٰ درجہ کا کشف تھا جس کو در حقیقت بیداری کہنا چاہیے۔ایسے کشف کی حالت میں انسان ایک نوری جسم کے ساتھ حسب استعد اد نفس ناطقہ اپنے کے آسمانوں کی سیر کر سکتا ہے پس چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نفس ناطقہ کی اعلیٰ درجہ کی استعداد تھی اور انتہائی نقطہ تک پہنچی ہوئی تھی اس لئے وہ اپنی معراجی سیر میں معمورہ عالم کے انتہائی نقطہ تک جو عرش عظیم سے تعبیر کیا جاتا ہے پہنچ گئے سو در حقیقت یہ سیر کشفی تھا جو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔میں اس کا نام خواب ہرگز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو در حقیقت بیداری