صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 16
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۶ ۸۰- كتاب الدعوات مرنے سے بچالیتا ہے۔جس مذہب میں اس فلسفہ کا ذکر نہیں وہ مذہب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر گز نہیں اور جس شخص نے نبی یارسول یار استنباز یا پاک فطرت کہلا کر اس چشمہ سے منہ پھیرا ہے وہ ہرگز خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں اور ایسا آدمی خدا تعالیٰ سے نہیں بلکہ شیطان سے نکلا ہے کیونکہ شیط مرنے کو کہتے ہیں۔پس جس نے اپنے روحانی باغ کو سر سبز کرنے کے لئے اس حقیقی چشمہ کو اپنی طرف کھینچنا نہیں چاہا اور استغفار کے نالے کو اس چشمہ سے لبالب نہیں کیا وہ شیطان ہے یعنی مرنے والا ہے کیونکہ ممکن نہیں کہ کوئی سر سبز درخت بغیر پانی کے زندہ رہ سکے۔ہر یک متکبر جو اس زندگی کے چشمہ سے اپنے روحانی درخت کو سر سبز کرنا نہیں چاہتا وہ شیطان ہے اور شیطان کی طرح ہلاک ہو گا۔کوئی راستباز نبی دنیا میں نہیں آیا جس نے استغفار کی حقیقت سے منہ پھیرا اور اس حقیقی چشمہ سے سر سبز ہونا نہ چاہا۔ہاں سب سے زیادہ اس سرسبزی کو ہمارے سید و مولی ختم المرسلین فخر الاولین والآخرین محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگا اس لئے خدا نے اس کو اس کے تمام ہم منصبوں سے زیادہ سر سبز اور معطر کیا۔“ ( نور القرآن نمبر ا ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۵ تا ۳۵۸) بَاب ٤ : التَّوْبَةُ توبہ کرنا قَالَ قَتَادَةُ: تَوْبَةً نَصُوحًا (التحريم : ۹) قادہ نے کہا: تَوْبَةً نَصُوحًا سے مراد یہ ہے کہ تم اللہ کے حضور ایسی تو بہ کرو جو سچی اور خالص ہو۔الصَّادِقَةُ النَّاصِحَةُ۔٦٣٠٨: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :۶۳۰۸ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ ابوشهاب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، اعمش نے عمارہ بن عمیر سے ، عمارہ نے حارث بن سوید سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ نے ہم سے دو حدیثیں بیان کیں۔ان میں سے حَدِيثَيْنِ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ ایک نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ایک اپنی طرف عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْآخَرُ عَنْ نَّفْسِهِ قَالَ ہے۔اپنی طرف سے یہ ) کہا کہ مؤمن اپنے