صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 15
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۱۵ ۸۰ - كتاب الدعوات اس لازوال ہستی سے آب پاشی چاہتا ہے جس کے فیض کے بغیر یہ جی ہی نہیں سکتا اس لئے استغفار مذکورہ معانی کے رو سے اس کے لازم حال پڑا ہے اور جیسا کہ چاروں طرف درخت اپنی ٹہنیاں چھوڑتا ہے گویا ارد گرد کے چشمہ کی طرف اپنے ہاتھوں کو پھیلاتا ہے کہ اے چشمہ میری مدد کر اور میری سرسبزی میں کمی نہ ہونے دے اور میرے پھلوں کا وقت ضائع ہونے سے بچا یہی حال راستبازوں کا ہے۔روحانی سر سبزی کے محفوظ اور سلامت رہنے کے لئے یا اس سرسبزی کی ترقیات کی غرض سے حقیقی زندگی کے چشمہ سے سلامتی کا پانی مانگنا بھی وہ امر ہے جس کو قرآن کریم دوسرے لفظوں میں استغفار کے نام سے موسوم کرتا ہے قرآن شریف کو سوچو اور غور سے پڑھو استغفار کی اعلیٰ حقیقت پاؤ گے اور ہم ابھی بیان کر چکے ہیں کہ مغفرت لعنت کی رو سے ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے کسی آفت سے بچنا مقصود ہے۔مثلاً پانی درختوں کے حق میں ایک مغفرت کرنے والا عصر ہے یعنی ان کے عیبوں کو ڈھانکتا ہے۔یہ بات سوچ لو کہ اگر کسی باغ کو برس دو برس بالکل پانی نہ ملے تو اس کی کیا شکل نکل آئے گی کیا یہ سچ نہیں کہ اس کی خوبصورتی بالکل دور ہو جائے گی اور سرسبزی اور خوشنمائی کا نام ونشان نہیں رہے گا اور وہ وقت پر کبھی پھل نہیں لائے گا اور اندر ہی اندر جل جائے گا اور پھول بھی نہیں آئیں گے بلکہ اس کے سبز سبز اور نرم نرم لہلہاتے ہوئے پتے چند روز ہی میں خشک ہو کر گر جائیں گے اور خشکی غالب ہو کر مجذوم کی طرح آہستہ آہستہ اس کے تمام اعضاء گرنے شروع ہو جائیں گے یہ تمام بلائیں کیوں اس پر نازل ہوں گی ؟ اس وجہ سے کہ وہ پانی جو اس کی زندگی کا مدار تھا اس نے اس کو سیراب نہیں کیا اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جل شانہ فرماتا ہے: كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ (ابراهیم :۲۵) یعنی پاک کلمه پاک درخت کی مانند ہے پس جیسا کہ کوئی عمدہ اور شریف درخت بغیر پانی کے نشود نما نہیں کر سکتا۔اسی طرح راستباز انسان کے کلمات طیبہ جو اس کے منہ سے نکلتے ہیں اپنی پوری سرسبزی دکھلا نہیں سکتے اور نہ نشو و نما کر سکتے ہیں جب تک وہ پاک چشمہ ان کی جڑوں کو استغفار کے نالے میں بہہ کر تر نہ کرے سو انسان کی روحانی زندگی استغفار سے ہے جس کے نالے میں ہو کر حقیقی چشمہ انسانیت کی جڑوں تک پہنچتا ہے اور خشک ہونے اور