صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 393
صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۹۳ ۸۲- كتاب القدر قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بتایا۔یونس نے زہری سے، زہری نے کہا: مجھے الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابو سلمہ (بن عبد الرحمن) نے بتایا۔ابوسلمہ نے وَسَلَّمَ قَالَ مَا اسْتَخْلِفَ خَلِيفَةً إِلَّا حضرت ابو سعید خدری سے، حضرت ابوسعید نے لَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ نے وَتَحْضُهُ عَلَيْهِ وَبِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالشَّرِ فرمایا: کوئی بھی ایسا خلیفہ نہیں ہوا کہ جس کے دو وَتَحُضُهُ عَلَيْهِ وَالْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ کے رازدار نہ ہوں۔ایک راز دار تو وہ جو اسے بھلائی کا مشورہ دیتے ہیں اور اس پر اُسے آمادہ الله۔طرفه : ۷۱۹۸- ریح: کرتے ہیں اور ایک رازدار وہ جو اُسے برائی کا مشورہ دیتے ہیں اور اس پر اُسے آمادہ کرتے ہیں اور معصوم وہی ہے جس کو اللہ بچائے۔الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ اللهُ : معصوم وہ ہے جس کو اللہ نے گناہوں سے بچایا۔علامہ بدرالدین مینی لکھتے ہیں: التعْصُوم من عصمة الله بأن حماه عَن الْوُقُوع فِي الْهَلَاكَ يُقَال: عصمه الله من الْمَكْرُوه وَقَاه وحفظه والفرق بين عصمَة الْمُؤْمِنِينَ وعصبة الأَنْبِيَاء عَلَيْهِم السّلام، أن عصبة الْأَنْبِيَاء بطريق الوُجُوب۔وفي حق غيرهم بطريق الجواز (عمدة القارى، كتاب القدر، باب البَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله جلد ۲۳، صفحہ ۱۵۵) معصوم وہ ہے جسے اللہ تعالی گناہوں سے بچائے رکھے اور وہ ہلاکت سے محفوظ رہے ، کہا جاتا ہے کہ اللہ نے اس کو مکروہ سے بچایا اور محفوظ رکھا۔مومنین کی عصمت اور انبیاء کی عصمت میں یہ فرق ہے کہ انبیاء کی عصمت بطور وجوب کے ہے اور ان کے علاوہ دیگر کی بطور جواز کے ہے۔ترتیب ابواب میں امام بخاری نے اس باب کے عنوان سے یہ بتایا ہے کہ انسان اپنی تمام تر کوششوں اور وسائل کے باوجود محفوظ و معصوم نہیں بن سکتا جب تک اللہ تعالیٰ کا دست قدرت اس کی دستگیری نہ کرے اس لیے ہر نیک کام میں انشاء اللہ کہنے کی تاکید کی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ کی منشاء کے خلاف کوئی کام نہیں ہو سکتا۔انبیاء بلکہ خاتم الانبیاء جن کو عصمت کبری حاصل تھی وہ بھی استغفار کے ذریعہ اپنی عصمت کی حفاظت اور ہر لمحہ اس معصومیت میں ترقی اور خدائے قدوس کی طرف دائمی سفر اور وصل اور لقائے باری تعالیٰ کے مدارج کی ترقی کے لیے بکثرت استغفار کرتے تھے۔بِطَانَتَانِ بِطَانَةً تَأْمُرُهُ بِالْخَيْرِ وَبِطَانَةً تَأْمُرد بالشر : دو قسم کے رازدار۔ایک راز دار تو وہ جو اسے بِالغَيرِ دو بھلائی کا مشورہ دیتے ہیں۔اور ایک راز دار وہ جو اُسے برائی کا مشورہ دیتے ہیں۔خلفاء کو چاہے وہ خلیفہ اللہ یعنی خدا کا نبی ہو یا خلیفہ الرسول ہو ہر دو قسم کے مشورے ملتے ہیں۔خیر کے بھی اور شر کے بھی۔مگر یہاں خیر اور شر سے مراد ان