صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 392
۳۹۲ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲ - كتاب القدر اور اب جو ہو گا اس بندے کی مرضی سے ہو گا۔نہیں ہرگز نہیں۔آخری فیصلہ اور تقدیر کی ڈوریاں اسی قادر و قدیر کے ہاتھ میں ہیں۔اس لیے تمہارے لیے ایک ہی راہ ہے کہ حضرت ابراہیمؑ کی طرح اسلمتُ لِرَبِّ الْعَلَمِينَ کہتے ہوئے اپنا سب کچھ اپنے خالق و مالک اور قادر مطلق کے سپر د کر دو۔خدا کو اپنی سپر بناؤ بے شک ہر کام میں اپنی تمام ہمت و طاقت کے مطابق اسباب اختیار کرو مگر تمہارا تو کل اور بھروسہ اُس ذات پر ہو جو ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد ( البروج : ١٢) (وہ) عرش کا مالک ( اور ) بزرگ شان والا ہے۔اور فَقَالُ لِمَا يُرِيدُ (البروج : ۱۷) جس بات کا ارادہ کرے اسے کر کے رہنے والا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لاحول کی اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے ایک اور موقع پر فرمایا جب بندہ لَا حَوْلَ وَلَا قُونَ پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ میر اطبع ہو گیا ہے اور اُس نے خود کو میرے حوالے کر دیا۔مطیع حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”شیطان لاحول سے بھاگتا ہے۔مگر وہ ایسا سادہ لوح نہیں کہ صرف زبانی طور پر لاحول کہنے سے بھاگ جائے۔اس طرح سے تو خواہ سو دفعہ لاحول پڑھا جاوے وہ نہیں بھاگے گا۔بلکہ اصل بات یہ ہے کہ جس کے ذرہ ذرہ میں لا حول سرایت کر جاتا ہے اور جو ہر وقت خدا تعالیٰ سے ہی مدد اور استعانت طلب کرتے رہتے ہیں اور اس سے ہی فیض حاصل کرتے رہتے ہیں۔وہ شیطان سے بچائے جاتے ہیں اور وہی لوگ ہوتے ہیں جو فلاح پانے والے ہوتے ہیں۔“ (ملفوظات، جلد ۵ صفحہ ۳۹۹) باب ۸: الْمَعْصُومُ مَنْ عَصَمَ الله معصوم وہ ہے جس کو اللہ نے گناہوں سے بچایا عَاصِمٌ مَائِعٌ۔قَالَ مُجَاهِدٌ سُدًا عَن عاصم کے معنی ہیں روکنے والا۔مجاہد نے کہا: ( یہ جو الْحَقِّ يَتَرَدَّدُونَ فِي الضَّلَالَةِ۔دَشها سورة يسيین میں آیا ہے) سُدًا تو اس کے معنی ہیں (الشمس: ١١) أَغْوَاهَا۔ہم نے اُن کے سامنے ایک روک قائم کر دی ہے جو اُن کو حق سے روکتی ہے۔اور وہ اپنی گمراہی میں ڈگمگاتے رہتے ہیں۔دشھا جو فرمایا تو اس کے معنی ہیں اس کو بے راہ کر دیا۔٦٦١١: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا ۲۶۱۱: عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔یونس نے ہمیں