صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 394
۳۹۴ صحیح البخاری جلد ۱۵ ۸۲ - کتاب القدر مشوروں کا اس موقع کی مناسبت سے ہوتا ہے۔اس لیے یہ خیر و شر نسبتی امر ہے۔جیسے بدر کے قیدیوں کے متعلق حضرت ابوبکر کا مشورہ تھا کہ فدیہ لے کر یا بطور احسان ان کو چھوڑ دیا جائے جبکہ حضرت عمرؓ کا مشورہ تھا کہ ان کو قتل کر دیا جائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر کے مشورہ کو قبول فرمایا اور اسی پر عمل ہوا اور اسی کے مطابق بعد میں آیات بھی نازل ہوئیں۔مگر بنو قریظہ کے مردوں یا جنگجوؤں کے متعلق حضرت سعد بن ابی وقاص کا موقف ان کے قتل کا تھا اور اس پر عمل ہو اواقعات نے بتایا کہ ان بد عہدوں اور آستین کے سانپوں کا قتل کیا جانا ہی امر خیر تھا۔نبی کی معصومیت یہ ہے کہ اس کو ہر قسم کے مشورے ملتے ہیں خیر کے بھی اور شر کے بھی مگر نبی کی زبان حق بیان سے وہی فیصلہ جاری ہوتا ہے جو خیر پر مبنی ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہلو کو ایک موقع پر یوں بیان فرمایا اشفَعُوا تُؤْجَرُوا وَيَقْدِى اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاء تم بھی سفارش کرو۔تمہیں ثواب ملے گا اور اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جتنی چاہے گا؛ حاجت پوری کر دے گایہ عصمت، انبیاء کے بعد اُن کے جانشینوں اور خلفاء کو بھی بروزی طور پر حاصل ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ اُن سے وہی فیصلہ کراتا ہے جو خیر کا ہوتا ہے حتی کہ اُن کی کوئی بشری یا اجتہادی غلطی بھی جماعت کے لیے شر کا موجب نہیں بنتی بلکہ خیر کا ذریعہ ہی بنتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: انبیاء کے متعلق قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور معصوم ہونے کے معنی یہ ہیں کہ بلوغت سے پہلے ہی وہ معصوم ہوں کیونکہ عصمت کا ملہ جو نبی کو حاصل ہوتی ہے وہ اُس وقت تک اُسے حاصل ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ تقویٰ اور محبت الہی اس کے بلوغ بلکہ ہوش سے پہلے ہی موجود نہ ہو۔جو اُسے بُرائیوں سے محفوظ رکھے اور یہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ الصَّبِيُّ صَى وَلَوْ كَانَ نَبِیا تو اس کے معنی صرف بچپن کے کھیل کود کے ہیں نہ کہ بغاوت و شرارت کے۔“ ( تعلق بالله ، انوار العلوم، جلد ۲۳ صفحه ۱۷۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ اُنہیں احادیث کی کتابوں میں بعض امور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اجتہادی غلطی کا بھی ذکر ہے اگر کل قول و فعل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وحی سے تھا تو پھر وہ غلطی کیوں ہوئی گو آنحضرت اس پر قائم نہیں رکھے گئے۔تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ اجتہادی غلطی بھی وحی کی روشنی سے دور نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے قبضہ سے ایک دم جدا نہیں ہوتے ا (صحيح البخارى، كتاب الزَّكَاةِ، بَابُ التَّحْرِيضِ عَلَى الصَّدَقَةِ وَالشَّفَاعَةِ فِيهَا، روایت نمبر ۱۴۳۲)