صحیح بخاری (جلد پانز دہم)

Page 384 of 802

صحیح بخاری (جلد پانز دہم) — Page 384

صحیح البخاری جلد ۱۵ ۳۸۴ ۸۲ - کتاب القدر کرتا ہے اور اگر ضرورت حقہ پر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ ایک جائز کام کرتا ہے۔بہر حال اس مسئلہ کے تینوں پہلو ہیں۔جب عزل کو قومی تباہی کا موجب بنا دیا جائے تو یہ حرام ہو جاتا ہے۔جب عزل قومی تباہی کا موجب نہ ہو لیکن اس کی کوئی ضرورت بھی نہ ہو تو یہ مکروہ ہوتا ہے۔اور جب کسی عورت کی جان بچانے کے لئے یا کسی ایسی ہی ضرورت کے لئے جسے شریعت جائز قرار دیتی ہو ایسا کیا جائے تو یہ جائز ہوتا ہے۔پس ہر عزل و اد انخفی کے ماتحت نہیں آسکتا۔وہی عزل اس جرم کا مرتکب بناتا ہے جو قومی تباہی کا موجب بن جائے جیسے فرانس وغیرہ ممالک میں اس کا رواج ہو رہا ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ وہاں کی آبادی خطر ناک طور پر کم ہو گئی ہے اور وہ قوم دوسروں کے مقابلہ میں بالکل مقہور اور ذلیل ہو گئی ہے اسی لئے رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتزوجوا لُوَلُودَ الْوَدُودَ (نسائی جلد دوم کتاب النکاح) کہ جو عورتیں کثرت سے بچے جننے والی ہوں اُن سے شادیاں کیا کرو کیونکہ اس طرح قوم کی ترقی ہوتی ہے۔“ ( تفسیر کبیر، سورة التكوير، زیر آیت وَإِذَا الموردة سهلت جلد ۸ صفحه ۲۲۳، ۲۲۴) بَابه : الْعَمَلُ بِالْخَوَاتِيمِ عمل کا اعتبار انجام پر ہی ہوتا ہے ٦٦٠٦: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى :۶۶۰۶ حیان بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔معمر نے الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ ہمیں خبر دی۔معمر نے زہری سے، زہری نے أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْنَا سعيد بن مسیب سے، سعید نے حضرت ابوہریرہ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم خَيْبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ خیبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ مِمَّنْ مَعَهُ يَدَّعِي تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے الْإِسْلَامَ هَذَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلَمَّا متعلق جو اسلام کا دعویٰ رکھتا تھا اور اُن لوگوں میں